اردو
हिन्दी
اپریل 11, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

دہشت گردی کی فرقہ وارانہ تشریح و تعبیر

8 مہینے پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ Uncategorized
A A
0
20
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

ملاحظات، :(مولانا)عبدالحمید نعمانی،
گزشتہ کچھ دہائیوں سے ملک اور عالمی سطح پر ہندوتو وادی اور صیہونی عناصر کی طرف سے دہشت گردی کی ایسی تعبیر وتشریح کی جا رہی ہے ، جس کے دائرے سے وہ تمام تر تشدد، ظلم و زیادتی اور بربریت کے با وجود باہر ہو جائیں، اور دیگر خصوصا مسلم، دہشت گردی کے دائرے میں لازما آجائیں، ملک میں ہندوتو وادی سوچ والے عناصر، ہندو راشٹر کے قیام، برہمن وادی تہذیب کے تحفظ و فروغ کے نام پر اپنے سے مختلف افراد کے خلاف پر تشدد اقدامات اور دہشت گردانہ کارروائیوں کو راشٹر واد کا نام دے کر انجام دیتے ہیں ،

اسرائیل و فلسطین کے عوام اور پاس پڑوس کے ممالک کے خلاف جارحانہ و وحشیانہ حملوں کو گریٹر اسرائیل کے قیام اور موجودہ اسرائیل کے تحفظ کے نام پر جائز قرار دینے کا سلسلہ  مدتوں سے جاری ہے، جب کہ فلسطینی عوام کی مزاحمتی کوششوں کو دہشت گردی قرار دے کر خود کو مظلوموں کے زمرے میں ڈال کر عالمی برادری میں اپنی مخصوص قسم کی شبیہ بنانے کی کوششیں ہوتی ہیں، حالاں کہ صیہونیوں کی طرف سے، ایک عرصہ دراز سے پر تشدد، دہشت گردانہ کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے، یہی کچھ بھارت میں مختلف شکلوں میں ہوتا نظر آتا ہے، ہندوتو وادی عناصر کی طرف سے، دلت، آدی واسی، محنت کش طبقات، اقلیتوں خصوصا مسلم اقلیت کے خلاف مختلف شکلوں میں پر تشدد حملوں اور دہشت گردانہ اقدامات کیے جاتے  ہیں، دہشت گردی کے متعلق دقت یہ ہے کہ اقوام متحدہ سمیت کسی بھی تسلیم شدہ معتبر عالمی و قومی ادارے کی طرف سے اس کی تعریف و تشریح پیش نہیں کی گئی ہے، اس کا فائدہ اٹھا کر طاقت ور ممالک و افراد، بڑی آسانی سے خود کے پر تشدد تخریبی و دہشت گردانہ اقدامات کو دہشت گردی کے دائرے سے باہر اور کمزور اور اقلیتوں کو دہشت گرد باور کرانے میں تشہیری ذرائع  سے بآسانی کامیاب ہو جاتے ہیں،

کئی دہائیوں سے سابق وزیر داخلہ لال کرشن اڈوانی، موجودہ وزیر داخلہ امت ساہ، یوگی آدتیہ جیسے بہت سے ہندوتو وادی سوچ والے لوگ مختلف اسلوب و انداز میں باور کرانے کی کوشش کرتے رہے ہیں کہ دہشت گرد ہندو نہیں ہوتے ہیں اور نہ ہو سکتے ہیں بلکہ دیگر کمیونٹیز کے لوگ دہشت گرد ہوتے ہیں، مالیگاؤں بم دھماکے کے ملزمین کے، این آئی اے عدالت سے بری ہونے کے فیصلے سے ایک ہی دن پہلے وزیر داخلہ نے پارلیمنٹ میں بہت زور دار انداز میں کہا تھا کہ میں دنیا اور ملک کے عوام کے سامنے فخر سے کہتا ہوں کہ ہندو کبھی دہشت گرد نہیں ہو سکتا ہے، ہندو کبھی دہشت گرد نہیں ہوتے ہیں، ظاہر ہے کہ گاندھی جی، اندرا گاندھی، راجیو گاندھی کے قتل سے لے کر بعد کے بے شمار واقعات اور نکسلی، لٹے۔خالصتانی عناصر کی موجودگی میں اس طرح کے بیانیے میں کوئی دم نہیں ہے، بس ایک ایسا بیانیہ تیار کرنا مقصود ہے کہ مسلمان وغیرہ ہی دہشت گرد ہوتے ہیں اور ہو سکتے ہیں، جب کہ ہندو دہشت گردی کا کوئی وجود نہیں ہے، گرچہ این آئی اے عدالت کا فیصلہ آخری حتمی فیصلہ نہیں ہے تاہم ہندوتو کے حامی اسے اپنی جیت قرار دے کر جشن و ماحول سازی میں لگ گئے ہیں، ہندوتو وادی دانش وروں اور صحافیوں کا ایک طاقت ور طبقہ ممبئی ٹرین دھماکے کے ملزمین کو دہشت گرد، مجرم اور مالیگاؤں بم دھماکے کے سلسلے میں گرفتار افراد، سادھوی پرگیہ، کرنل پروہت وغیرہم کو محض ملزم اور بے قصور ثابت کرنے میں لگ گیا ہے، وہ بھگوا دہشت گردی، ہندو دہشت گردی کی اصطلاح کو غلط اور ہندو سماج کو بدنام کرنے والی قرار دے رہا ہے، لیکن اسلامی و مسلم دہشت گردی کی اصطلاح پر اسے کوئی اعتراض نہیں ہے، نہ صرف یہ کہ اسلامی، جہادی دہشت گردی کی اصطلاح پر کوئی اعتراض نہیں ہے بلکہ پوری لذت و عیاشی کے ساتھ دھڑلے سے استعمال بھی کرتا ہے، حالیہ این آئی اے عدالت نے واضح طور سے کہا ہے کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا ہے، بھگوا دہشت گردی اور ہندو دہشت گردی کی اصطلاح کا استعمال، مختلف قسم کی دہشت گردی میں امتیاز و شناخت پیدا کرنے کے لیے کیا گیا تھا اور اس کی سرگرمیوں میں شامل ہونے والے مبینہ افراد کی وابستگی، ایک  خاص گروہ و فکر سے تعلق ہونے کے طور پر سامنے آئی تھی، تاہم ان کو اکثریتی سماج کا حصہ سمجھنا صحیح نہیں ہو گا،

ہندوتو وادی، عام ہندو اکثریت سے بالکل الگ اور دونوں میں واضح فرق ہے، اسی طرح اسلامی دہشت گردی کا کہیں بھی وجود نہیں ہے، جرم ثابت ہونے سے پہلے ملزم کو مجرم کے طور پر پیش کرنا، عدل و انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہے، اس سلسلے میں تفریق اور بھید بھاؤ، کھلی جانبداری اور انصاف و انسانیت کا قتل ہے،جس کی کسی بھی مہذب جمہوری، سیکولر نظام حکومت و معاشرے میں کوئی جگہ نہیں ہے، یہ اچھی علامت اور سوشل سرگرمیوں کا اثر ہے کہ این آئی اے، جس کی جانب داری مختلف مواقع پر سامنے آتی رہی ہے نے بادل نخواستہ ہی سہی اپنی عدالت کے فیصلے پر ہائی کورٹ جانے کا ارادہ ظاہر کیا ہے، لیکن بی جے پی کی قیادت والی مہاراشٹر سرکار، اب بھی سوال  و الزام کی زد میں ہے کہ وہ ممبئی ٹرین دھماکے کے ملزمین کی ہائی کورٹ سے رہائی کے خلاف جس سرعت سے سپریم کورٹ پہنچ گئی تھی ویسی تیزی مالیگاؤں بم دھماکے کے ملزمین کی رہائی کے خلاف نہیں دکھائی ہے، اس کے ساتھ ہی جنھوں نے ممبئی ہائی کورٹ کے فیصلے پر نا پسندیدگی اور تشویش و افسوس کا اظہار کیا تھا وہ بھی این آئی اے عدالت کے فیصلے کو برعکس شکل میں پیش کرتے نظر آتے ہیں، مہاراشٹر کے وزیر اعلی دیویندر فڑ نویس نے یہ کہنے میں ذرا بھی دیر نہیں کی کہ جب اسلامی شدت پسندوں کے ہاتھوں، دنیا میں دہشت گردانہ حملے ہو رہے تھے تو ہندو دہشت گردی اور بھگوا دہشت گردی جیسے الفاظ کا کہیں نام و نشان نہیں تھا، یہاں دونوں معاملے میں کھلی جانبداری اور تفریق صاف صاف نظر آتی ہے، بی جے پی، سنگھ کے لیڈروں اور ترجمانوں کو مسلم خاندانوں کی بربادی اور مسلم نوجوانوں کو دہشت گرد اور عالمی دہشت گردی کا حصہ قرار دے کر جیلوں میں بند کر کے ان کی زندگی خراب ہونے پر کوئی تشویش و تکلیف نہیں ہے لیکن ہندو نام والے ملزمین پر الزامات و گرفتاری کے معاملے کو پورے ہندو سماج، فوج، سنت، سناتن اور سنودھان(آئین )پر حملے کے روپ میں پیش کیا جا رہا ہے، اس میں سمجھ داری سے زیادہ سیاست نظر آتی ہے، یہاں کسی ایک کمیونٹی کی خوشنودی و خوشامد  بھی تلاش  کر لی جاتی ہے، حالاں کہ یہ سبھی جانتے ہیں کہ کانگریس کی مرکزی و ریاستی سرکاروں نے مسلمانوں خصوصا مسلم نوجوانوں کے ساتھ رعایت برتنا تو دور،  ان میں گرفتاریوں و اذیتوں کی ایک سنامی سی آ گئی تھی، حالات نے پلٹا تب کھایا جب مہاراشٹر اے ٹی ایس  ، ہیمنت کرکرے کی سربراہی میں مختلف مقامات پر بم سازی و بم دھماکے کے سلسلے میں ہندو نام والے افراد  کو سامنے لے آئی اور ان کی گرفتاری عمل میں آئی، ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کا آخری فیصلہ کس شکل میں سامنے آئے گا، اس کے متعلق فی الحال کچھ کہنا مشکل اور جلدی بازی ہوگی، فیصلے سے پہلے کسی بھی ملزم کو مجرم کہنا، راست رویہ نہیں ہے، تاہم یہ امر قابل توجہ ہے اور کچھ سوالات کھڑے کرتا ہے کہ محمدیہ مسجد پربھنی(نومبر 2003) پورنا مسجد(2004)جالنہ مسجد(اگست 2004)ناندیڑ پاٹ بندھارے نگر بم سازی کے دوران دھماکہ(اپریل 2006)اور مالیگاؤں نم دھماکے (29ستمبر 2008) کے الزام کے سلسلے میں ہندو نام والے افراد کی گرفتاری اور دیگر کئی دھماکے، مکہ مسجد، اجمیری دھماکے وغیرہ کے سلسلے میں آسیمانند کی گرفتاری اور سنگھ کا نام آتے ہی پورے ملک کے مختلف حصوں میں ہونے والے تمام دھماکوں کا سلسلہ یکسر رک گیا اور آج تک رکا ہوا ہے، ایسا کیسے اور کیوں ہوا؟ یہ قابل توجہ سوال ہے، اس کی طرف ملزمین کی قانونی مدد کرنے والی جمیعتہ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی کئی بار متوجہ کر چکے ہیں، ، ابھی حال ہی میں ممبئی ہائی کورٹ کے فیصلے کے تناظر میں بی جے پی، وشو ہندو پریشد وغیرہ کی طرف سے بھی مختلف ذرائع ابلاغ  پر اعتراضات کیے گئے، لیکن ظاہر ہے کہ ان میں کوئی دم، دلیل نہیں ہے، ہم نے اسے بارہا واضح بھی کیا،  مجرم ثابت ہونے تک کسی ملزم کی قانونی مدد اور عدالتی چارہ جوئی، کسی بھی ضابطے، قانون کی رو سے غلط نہیں ہے، ہندوتو وادی سوچ کے عناصر کو جمیعتہ علماء ہند کی تاریخ اور طریقہ کار کی واجب جانکاری بھی نہیں ہے، ایسی حالت میں جمیعتہ علماء ہند اور مسلم تنظیموں کو مختلف ذرائع ابلاغ بہتر نمائندگی و ترجمانی پر توجہ دینا چاہیے، دہشت گردی جیسے معاملے میں اس کی فرقہ وارانہ تشریح و تعبیر اور فرقہ وارانہ تقسیم کے تحت سماج کو دیکھنے کا زاویہ، بھارت جیسے تکثیری معاشرے و آبادی والے ملک کے لیے تباہ کن اور اس کے وشو گرو بننے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے، اس پر ان مسلم نام والی تنظیموں کو بھی توجہ دینا چاہیے، جو آر ایس ایس اور بی جے پی میں شامل اور سرگرم عمل ہیں اور بھارت کو وشو گرو بنانے کی باتیں کرتی اور نعرے لگاتی رہتی ہیں ،یہ بتانے اور سمجھانے کی بڑی ضرورت ہے کہ مشترک آبادی والے ملک میں معاملے کی فرقہ وارانہ تشریح و تعبیر، قطعی طور پر تباہ کن  ہے،

ٹیگ: abdulhameed nomaniarticleislamic terrorismSectarian ،interpretation ، terrorism،bhagwa terrorism

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

Uncategorized

امریکی تھنک ٹینک نے کیوں کہا: 2026 میں ہندوپاک کے درمیان جنگ ہوگی؟ یہ ہیں وجوہات

31 دسمبر
Iran Israel War Warning
Uncategorized

ایرانی وزیر خارجہ نےکہا، ہم پر ایک حملہ ہوسکتا ہے،جنگ کے لیے پہلے سے زیادہ تیار، اسرائیل کا بھی جواب آیا

22 دسمبر
Uncategorized

ترکیہ کی خاتون اول امینہ ایردوان کا غزہ کے حالات پر میلانی ٹرمپ کے نام  خط،حساسیت کے مظاہرہ کی اپیل

23 اگست
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
Abdullah Salim Qasmi Apology News

مولاناُعبداللہ سالم قاسمی لنگڑاتے ہوئے تھانے پہنچے، نازیبا بیان کے لئے ہاتھ جوڑکر معافی مانگی، ویڈیو سامنے آیا

مارچ 31, 2026
UGC Vande Mataram News

کالج ،یونیورسٹی پورا وندے ماترم گانے کے احکامات پر سختی سے عمل کریں: UGC کا فرمان

اپریل 10, 2026
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

UGC Vande Mataram News

کالج ،یونیورسٹی پورا وندے ماترم گانے کے احکامات پر سختی سے عمل کریں: UGC کا فرمان

LPG Crisis Workers Crowd News

آگھر لوٹ چلیں: ایل پی جی بحران۔فیکٹریوں میں تالا، ریلوے اسٹیشنوں پر مزدوروں کی بھیڑ، بھگدڑ جیسے حالات

Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
UGC Vande Mataram News

کالج ،یونیورسٹی پورا وندے ماترم گانے کے احکامات پر سختی سے عمل کریں: UGC کا فرمان

اپریل 10, 2026
LPG Crisis Workers Crowd News

آگھر لوٹ چلیں: ایل پی جی بحران۔فیکٹریوں میں تالا، ریلوے اسٹیشنوں پر مزدوروں کی بھیڑ، بھگدڑ جیسے حالات

مارچ 31, 2026

حالیہ خبریں

Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN