ڈاکٹر شفیق الرحمن کی زندگی ایک غیر معمولی سفر کی عکاس ہے۔ کبھی وہ اشتراکیت کے اسیر تھے، سیاست کے ابتدائی سالوں میں قومی سوشلسٹ پارٹی سے وابستہ طلبہ تنظیم میں سرگرم رہے، لیکن آج وہ بنگلہ دیش کی ایک بڑی اسلامی پارٹی جماعت اسلامی کے امیر ہیں۔
یہ دلچسپ کہانی نہ صرف سیاسی تبدیلی کی ہے، بلکہ دعوت، سماجی خدمت اور قیادت کے امتزاج کی بھی ہے۔شفیق الرحمن محمد اِبرو میاں 31 اکتوبر 1958 کو شمال مشرقی بنگلہ دیش کے شہر مولوی بازار میں پیدا ہوئے۔ تعلیم و تربیت کے لحاظ سے ان کا خاندان طبی پیشے سے وابستہ ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر امینہ بیگم سے شادی کی اور تین بچوں کے والد ہیں، جو بھی طبی میدان سے جڑے ہیں۔ ابتدائی تعلیم برامشال اور مراری چند اسکولوں میں مکمل کی اور سلہٹ میڈیکل کالج سے 1983 میں MBBS کی ڈگری حاصل کی۔
1973 ء میں انہوں نے سیاست کا آغاز اشتراکی طلبہ تنظیم "جاشد” سے کیا، جو عوامی لیگ سے الگ ہوئی تھی۔ اس وقت نوجوان ذہنوں میں سوشلسٹ نظریات مقبول تھے، خاص طور پر غربت، ناانصافی اور قومی اتحاد کے مسائل کے پس منظر میں۔ وہ اسی فکری ماحول میں پروان چڑھے، جہاں اشتراکیت انسانی مساوات اور اقتصادی انصاف کا وعدہ کرتی تھی۔ لیکن سلہٹ میڈیکل کالج میں تعلیم کے دوران شفیق الرحمن نے طلبہ تنظیموں اور سیاسی حلقوں کا تجربہ کیا۔ وہاں انہوں نے دیکھا کہ سرخے صرف نعرے لگاتے ہیں، عملی سطح پر صفر۔ اس لیے انہوں نے صرف نظریات پر یقین رکھنا کافی نہیں سمجھا کہ عملی زندگی، اخلاقی حدود اور انسانی خدمت کی حقیقتیں نظریات سے کہیں زیادہ اہم ہیں۔ جو سرخوں میں ناپید۔ اس لیے انہوں نے متبادل کا سوچا۔ یہ خوبیاں انہیں جماعت اسلامی میں نظر آئیں تو 1977ء میں وہ جماعت اسلامی کی طلبہ تنظیم میں شامل ہوئے اور دورانِ تعلیم ہی سلہٹ شہر میں اس تنظیم کی قیادت سنبھالی۔ 1984ء میں رسمی طور پر جماعت اسلامی میں شمولیت اختیار کی اور پھر چار دہائیوں پر محیط سیاسی، دعوتی اور سماجی خدمات کا سفر شروع ہوا۔
شفیق الرحمن نے جماعت اسلامی کے مختلف عہدوں پر کام کیا: 1989سے 1991 تک سلہٹ ریجن کے سیکریٹری، 1998 میں اسی علاقے کے امیر، 2010 میں اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل، 2011 سے 2016 قائم مقام سیکریٹری جنرل اور 2018ء تک باقاعدہ سیکریٹری جنرل۔ 2018 کے انتخابات میں ڈھاکا-15 کے حلقے سے حصہ لیا، لیکن پارلیمان تک پہنچنے نہیں دیا گیا، لیکن پارٹی میں ان کی قیادت پر اعتماد برقرار رہا۔
نومبر 2019 میں انہیں جماعت اسلامی بنگلہ دیش کا امیر منتخب کیا گیا، اور 2026 کے پارلیمانی انتخابات کے لیے تیسری مدت کے لیے قیادت سونپی گئی۔ ان کی سیاسی زندگی میں متعدد بار گرفتاریاں بھی شامل ہیں، آخری گرفتاری دسمبر 2022 میں ہوئی، جب انہیں مبینہ شدت پسند تنظیم سے تعلق کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ تقریباً پندرہ ماہ قید کے بعد مارچ 2024 میں رہائی ملی۔
شفیق الرحمن نے سیاسی اور دعوتی کاموں کے ساتھ سماجی خدمت بھی جاری رکھی۔ وہ بنگلہ دیش ریڈ کریسنٹ سوسائٹی، بنگلہ دیش میڈیکل ایسوسی ایشن اور سلہٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے فعال رکن ہیں، جہاں انہوں نے صحت، فلاح اور معاشرتی ترقی میں حصہ لیا۔
انتخابات 2026ء میں وہ جماعت اسلامی کی قیادت کر رہے ہیں اور اپنے حالیہ بیان میں انہوں نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی میں خاتون امیر کا تصور موجود نہیں، جس نے ملک میں ایک چھوٹی بحث بھی پیدا کی۔
الجزیرہ نے ان کا تفصیلی انٹرویو کیا ہے۔ چینل کے مطابق شفیق الرحمن اس بات کی زندہ مثال ہیں کہ کس طرح ایک انسان اشتراکیت سے نکل کر اسلامی سیاسی قیادت کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے اور کس طرح علم، خدمت اور سیاست کو یکجا کر کے ایک طویل اور متاثر کن زندگی گزاری جا سکتی ہے۔(ضیاء چترالی)







