جمعہ کو ایک بڑا فیصلہ لیتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا کہ اس کی طرف سے ‘ادے پور فائلز’ کو جاری کرنے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا، اس عدالت نے میرٹ پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ یہ دہلی ہائی کورٹ پر منحصر ہے کہ وہ مناسب حکم صادر کرے۔ ادے پور فائلز فلم کی مخالفت کی جارہی ہے، یہ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ یہ راجستھان کے ایک درزی کنہیا لال کے قتل پر مبنی ہے۔ سپریم کورٹ نے معاملہ دہلی ہائی کورٹ کو بھیج دیا ہے۔ درخواست گزاروں سے کہا گیا ہے کہ وہ ہائی کورٹ میں اپنے دلائل پیش کریں۔ ہائی کورٹ سے پیر کو ہی اس کیس کی سماعت کرنے کو کہا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی فلم ساز نے سپریم کورٹ سے اپنی درخواست واپس لے لی ہے۔ سپریم کورٹ نے فلمسازوں کو ہائی کورٹ کے حکم کے خلاف سپریم کورٹ سے درخواست واپس لینے کی اجازت دے دی۔ عدالت نے کہا کہ مرکزی کمیٹی کے حکم سے ان کی درخواست بے معنی ہو گئی ہے۔
سماعت کے دوران جسٹس سوریا کانت نے پروڈیوسر کے وکیل سے کہا کہ ان تمام تنازعات نے فلم کو اچھی پبلسٹی دی ہے۔ جتنی زیادہ تشہیر ہوگی، اتنے ہی لوگ اسے دیکھیں گے۔ مجھے نہیں لگتا کہ آپ کا کوئی نقصان ہو گا۔ دراصل پروڈیوسر کی جانب سے گورو بھاٹیہ نے کہا تھا کہ سنسر بورڈ اور حکومت کی منظوری کے باوجود میری پوری زندگی کی سرمایہ کاری ضائع ہو گئی۔ جسٹس کانت نے کہا کہ ہم کوئی حکم امتناعی نہیں دے رہے ہیں، ہائی کورٹ اس پر غور کرے گی۔سبل نے کہا کہ -فلم کو ابھی اس شکل میں ریلیز نہیں کیا جا سکتا۔ ہائی کورٹ پیر کو اس کی سماعت کرے گی۔







