اتحاد ملت کونسل کے قومی صدر مولانا توقیر رضا خان نے ایک بار پھر مرکز اور ریاستی سرکاروں کے رویے کو لے کر سخت باتیں کی ہیں جن پر ہنگامہ ہوسکتا ہے ۔ انہوں نے رانا سانگا ویر ساورکر کو لے کر متنازعہ بیان دیا ہے۔ ساتھ ہی مرکزی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے مسلمانوں کے تئیں دوہرا معیار اپنانے کا الزام لگایا۔
مولانا توقیر رضا نے کہا کہ مرکزی حکومت نے مسلمانوں کے خلاف اعلان جنگ کر رکھا ہے۔ ساتھ ہی ریاستی حکومتوں میں یہ مقابلہ آرائی ہے کہ مسلمانوں پر سب سے زیادہ ظلم کون کرے گا۔ یہی نہیں، انہوں نے اعلان کیا کہ عید کے بعد وہ سنبھل جاکر دھرنا و مظاہرہ احتجاج کریں گے۔ پوری بریلی اس کے ساتھ ہوگی۔ احتجاج اس وقت تک جاری رہے گا جب تک تمام افسران کو ہٹا نہیں دیا جاتا۔
انہوں نے مسلم ارکان پارلیمنٹ سے کہا کہ سب کو جمع ہو کر سنبھل جانا چاہئے تھا اور وہاں احتجاج کرنا چاہئے تھا لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔انہوں نے مسلم پرسنل لا بورڈ ہر تنقید کرتے ہویے کہا کہ وہ بھی سنبھل پر خاموش رہا.
••بے گناہ مسلمانوں کو قتل کیا جا رہا ہے مولانا توقیر رضا نے کہا کہ ہم اپنے ملک میں کیا دیکھ رہے ہیں، کچھ طاقتیں مسلمانوں کے خلاف سازشیں کر رہی ہیں۔ کچھ غنڈے قبر توڑنے کے لیے نکلتے ہیں۔ ان غنڈوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جاتی جبکہ بے گناہ مسلمانوں کو قتل اور گرفتار کیا جاتا ہے۔
••• عید سادگی سے منائی جائے
توقیر رضا نے کہا کہ عید خوشی کا موقع ہے لیکن اس بار عید سادگی سے منائی جائے گی۔ نئے کپڑے نہیں پہنیں گے کیونکہ ہمارے بچوں کو قتل کیا گیا ہے۔ جھوٹے مقدمے میں جیل میں ڈالا گیا ہے۔ اس کی حمایت میں ہم نئے کپڑے نہیں پہنیں گے۔ جس طرح سے ہم نے الوداعی جمعہ پر امن پھیلانے کے لیے کام کیا، ہم نے ثابت کر دیا کہ ہم امن پسند لوگ ہیں۔
•••انوج چودھری پر حملہ
توقیر رضا نے کہا کہ میری نظر میں سنبھل کے سی او کا مسئلہ وقف سے زیادہ اہم ہے۔ سی او انوج چودھری نے پورے ملک کا ماحول خراب کرنے کا کام کیا۔ سی او کو ہٹا کر انکوائری کرائی جائے۔ سی ایم یوگی پر نشانہ لگاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے مہا کمبھ میں 65 کروڑ جمع کرکے دکھایا ہے۔
ساورکر کے بارے میں کیا کہا؟
اس کے ساتھ انہوں نےساورکر کے بارے میں کہا کہ وہ تمام لوگ جنہوں نے انگریزوں یا مغلوں سے ہاتھ ملایا، غداری کے مرتکب ہوئے۔ ویر ساورکر کو صرف اس لیے بہت اہمیت دی جاتی ہے کہ انھوں نے انگریزوں کے لیے کام کیا۔