ایران نے گزشتہ رات اسرائیل کی راجدھانی تل ابیب پر میزائلوں کی بارش کردی جس میں ‘محفوظ’ انٹیلی جنس مراکز کوخاص طور پر نشانہ بنایا تل ابیب میں عمارتوں اور گاڑیوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ایرانی حملوں کے بعد اسرائیلی پولیس صحافیوں کو کوریج سے روکنے پر مجبور ہوگئی۔۔
پریس ٹی وی press TV کے مطابق بیان میں کہا گیا ہے کہ IRGC ایرو اسپیس فورس کے کامیکاز ڈرونز کے ساتھ حملے میں خیبر شکن، ایماد اور سجیل میزائل استعمال کئے جنہوں نے شمالی اور وسطی تل ابیب مین اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایاٗ سیجل میزائلوں کو تعینات کرتے ہوئےاسرائیلی حکومت کے کثیر سطحی فضائی دفاعی نظام کو کامیابی سے توڑ دیا۔اس میں کہا گیا ہے کہ میزائلوں نے شمالی اور وسطی تل ابیب میں اسرائیل کی انٹیلی جنس تنصیبات کے ساتھ ساتھ رامات گان اور نیگیف میں فوجی تجارتی اور امدادی مراکز کو نشانہ بنایا۔میزائلوں نے بیر شیبہ میں اسرائیل کے جنوبی ملٹری لاجسٹکس اور کمانڈ ہیڈ کوارٹر کو بھی نشانہ بنایا۔
میزائل حملوں نے پورے اسرائیل میں بڑے پیمانے پر خوف و ہراس پھیلا دیا اور منگل کو کنیسٹ (پارلیمنٹ) کے اجلاس کو معطل کرنے پر مجبور کر دیا۔
"اسرائیل کے زیر قبضہ علاقوں میں گھنے دھوئیں اور آگ کے شعلے، جب کہ 20 لاکھ سے زیادہ لوگوں کو پناہ گاہوں میں لے جا رہے ہیں، ایران کی جدید میزائل اور ڈرون صلاحیتوں کے ناقابل تردید ثبوت کے طور پر کام کرتے ہیں۔
*امریکہ نے پندرہ نکاتی "امن منصوبہ” ایران کے حوالے کیا
امریکا نے جنگ کے خاتمے کے لیے ایران کو 15 نکاتی منصوبہ بھیج دیا۔امریکی میڈیا کے مطابق منصوبے میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ایران کی سرزمین پر کسی بھی مواد کی افزودگی نہ کی جائے۔
امریکا نے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ نیطنز، اصفہان اور فردو کے جوہری پلانٹس کو بھی ختم کیا جائےمنصوبہ میں کہاُ گیا ہے کہ ایران کو خطے میں پراکسیز کو فنڈنگ بند کرنا ہوگی اور آبنائے ہرمز میں آزاد میری ٹائم زون قائم کیا جائے۔اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا چاہتا ہے جنگ بندی مہینہ بھر کی ہو تاکہ ایران کے ساتھ 15 نکاتی معاہدے پر بات ہوسکے



