اسرائیلی اخبار ’دی ٹائمز آف اسرائیل‘ کے مطابق، اسرائیلی چینل i24 کو دیے گئے ایک انٹرویو کے دوران جب نتن یاہو کو گریٹر اسرائیل کا نقشہ دکھا کر سوال کیا گیا کہ کیا وہ گریٹر اسرائیل کے اس تصور سے متفق ہیں تو ان کا کہنا تھا ’بالکل۔‘
اسرائیلی وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ انھیں لگتا ہے کہ وہ ایک ’تاریخی اور روحانی مشن‘ پر ہیں اور وہ گریٹر اسرائیل کے وژن کے لیے ’بہت پرعزم‘ ہیں۔ ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق، نتن یاہو کا کہنا تھا کہ گریٹر اسرائیل کے اس تصور میں فلسطینی علاقوں کے علاوہ شاید اردن اور مصر کے بھی کچھ حصے شامل ہوں گے۔رواں سال چھ جنوری کو اسرائیل کے سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے جاری ہونے والے ایک نقشے میں فلسطین، شام، لبنان، اور اردن کے کچھ حصوں کو اسرائیل کا حصہ قرار دیا گیا تھا۔
اسرائیل کے سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے شئیر کیے گئے نقشے کے ساتھ دعویٰ کیا گیا کہ مملکت اسرائیل تقریباً 3000 سال پہلے قائم ہوئی اور اس کے پہلے تین بادشاہوں میں شاہ شاؤول، شاہ داؤد اور شاہ سلیمان شامل تھے جنھوں نے مجموعی طور پر 120 سال تک حکمرانی کی۔ ان کے دور میں یہودی ثقافت، مذہب اور معیشت میں ترقی ہوئی۔اس پوسٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ931 قبل مسیح میں شاہ سلیمان کی وفات کے بعد داخلی تنازعات اور بھاری ٹیکسوں کی وجہ سے مملکت دو حصوں میں تقسیم ہو گئی: شمال میں مملکت اسرائیل اور جنوب میں مملکت یہودہ۔ شمالی مملکت اسرائیل 209 سال بعد آشوریوں کے ہاتھوں (722 قبل مسیح) اور جنوبی مملکت یہودہ 345 سال بعد بابل کے بادشاہ نبوکدنضر کے ہاتھوں (568 قبل مسیح) ختم ہو گئی۔
’یہ تقسیم صدیوں تک سیاسی تنازعات کا باعث بنی لیکن جلاوطنی کے دوران یہودی قوم اپنی ریاست کی بحالی کی خواہاں رہی جس کا قیام 1948 میں ریاست اسرائیل کے طور پر ہوا جو آج مشرق وسطیٰ کی واحد جمہوری ریاست ہے۔دریں اثنا عرب ممالک کی تنظیم عرب لیگ نے اسے ’عرب ریاستوں کی خودمختاری کی خلاف ورزی اور خطے کی سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچانے کی کوشش‘ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ایسے بیانات ’توسیع پسند اور جارحانہ عزائم کی عکاسی کرتے ہیں۔‘








