نئی دہلی:(آر کے بیورو)پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس کا دوسرا مرحلہ جاری ہے۔ اس مرحلے کی کارروائی میں چار دن باقی ہیں اور اب حکومت وقف بل لانے کی تیاری کر رہی ہے۔ وقف بل 2 اپریل کو پارلیمنٹ میں آسکتا ہے۔ ذرائع کی مانیں تو وقف بل 2 اپریل کو لوک سبھا میں پیش کیا جا سکتا ہے۔ اگر حکومت وقف بل 2 اپریل کو پارلیمنٹ میں لاتی ہے تو اسے دونوں ایوانوں سے پاس کروانے کے لیے اس سیشن میں صرف دو دن ملیں گے۔
قابل زمذکر ہے وقف ترمیمی بل پارلیمنٹ کے آخری اجلاس میں لوک سبھا میں پیش کیا گیا تھا۔ اپوزیشن ارکان کے زبردست ہنگامہ آرائی کے درمیان پیش کیا گیا یہ بل مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کو بھیج دیا گیا۔ وقف بل کے حوالے سے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رکن پارلیمنٹ جگدمبیکا پال کی قیادت میں جے پی سی تشکیل دی گئی تھی۔
جگدمبیکا پال کی سربراہی میں جے پی سی نے بجٹ اجلاس کے دوران ہی لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کو اپنی رپورٹ پیش کی تھی۔ بی جے پی زیرقیادت قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کی اتحادی جماعتوں کی طرف سے دی گئی تجاویز کو اس رپورٹ میں شامل کیا گیا ہے۔ کئی اپوزیشن ارکان نے اختلافی نوٹ بھی دیے ہیں۔این ڈی اے کے دو حلقوں جے ڈی یو اور ٹی ڈی پی کے موقف پر بھی بات کی جا رہی ہے لیکن مانا جا رہا ہے کہ اس بل کو لے کر دونوں پارٹیوں کے خدشات دور ہو گئے ہیں۔ جے پی سی میں نہ صرف دونوں پارٹیوں کے ارکان موجود تھے بلکہ کابینہ کی جس میٹنگ میں نظرثانی شدہ رپورٹ کی بنیاد پر تیار کردہ نئے بل کو جے پی سی کی رپورٹ کی بنیاد پر منظور کیا گیا، اس میں این ڈی اے کے دونوں حلقوں کے کوٹے کے وزراء بھی موجود تھے۔
راجیہ سبھا میں چھوٹی پارٹیوں کی حمایت متوقع راجیہ سبھا میں این ڈی اے وقف بل کو منظور کرنے کے لیے درکار اکثریتی تعداد سے تھوڑا پیچھے ہے۔ ایسے میں حکومت کو کچھ چھوٹی جماعتوں سے حمایت کی توقع ہے۔ راجیہ سبھا میں اکثریت نہ ہونے کے باوجود حکومت ماضی میں کئی اہم بل پاس کر چکی ہے اور اس بار بھی فلور مینجمنٹ پر توجہ دی جائے گی۔