ملک گیر بھارت بند کا بڑے پیمانے پر اثر ملک بھر میں نظر آنے لگا ہے۔ 25 کروڑ سے زیادہ ملازمین کی اس ہڑتال کی وجہ سے عوامی خدمات، ٹرانسپورٹ اور بینکنگ کا نظام متاثر ہوا ہے۔ اس کا اثر بہار، مغربی بنگال میں سب سے زیادہ نظر آیا، جہاں مظاہرین نے کولکتہ کے جادھو پور میں ریلوے ٹریک کو بلاک کر دیا اور سلی گوڑی میں بس سروس ٹھپ رہی۔چکا جام کے دوران آر جے ڈی کارکنوں نے گاندھی سیتو پل کو بند کر دیا ہے۔ پٹنہ سے حاجی پور، دربھنگہ اور پورنیہ جیسے شہروں تک پہنچنے کے لیے یہ پل بہت اہم ہے۔ اس پل کے بند ہونے سے پٹنہ سے ان شہروں کی طرف جانے والے لوگوں کی مشکلات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
واضح رہے مہاگٹھ بندھن نے بہار میں الیکشن کمیشن کی طرف سے چلائی جارہی اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) مہم کے خلاف ریاست گیر چکہ جام کا اعلان کیا ہے۔ راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی)، کانگریس، بائیں بازو کی پارٹیاں، وی آئی پی پارٹی اور جن ادھیکار پارٹی (پپو یادو) سمیت مہاگٹھ بندھن کی تمام اتحادی جماعتیں اس احتجاج میں شامل ہیں۔ کانگریس لیڈر راہل گاندھی پٹنہ پہنچ گئے ہیں اور تیجسوی یادو کے ساتھ انکم ٹیکس گولمبر سے الیکشن آفس تک مارچ کر رہے ہیں۔چکہ جام کے تحت پٹنہ کے سیکریٹریٹ ہالٹ ریلوے اسٹیشن پر کانگریس کارکنوں نے ریلوے ٹریک پر دھرنا دیا۔ مظاہرین نے ٹرینوں کی آمدورفت روک دی، جس سے کئی لوکل اور پسنجر ٹرینیں تاخیر کا شکار ہو گئ
بند کوامارت شرعیہ سمیت مسلم تنظیموں کی بھی حمایت حاصل
بامارت شرعیہ اور کئی دیگر تنظیموں نے بند کی حمایت کی ہے۔ امارت شرعیہ سمیت تمام اہم مسلم تنظیموں نے بند کی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے ۔ امارت شرعیہ (بہار، جھارکھنڈ، اڈیشہ اور مغربی بنگال) کے علاوہ، جمعیۃ علماء ہند (الف)، ، مجلس علماء خطبہ امامیہ بہار (اہل تشیع)، مسلم مجلس مشاورت نے بھی اس بند کی حمایت کی ہے۔








