شام میں تیزی سے ہونے والی پیش رفت اور فوج اور مسلح دھڑوں کے درمیان محاذ آرائی کی روشنی میں اسرائیل نے اپنی زیادہ افواج کو شام کی گولان کی پہاڑیوں میں طلب کرلیا۔ اسرائیل نے 1967 سے گولان پر قبضہ کر رکھا ہے۔
اسرائیلی فوج نے ہفتے کے روز ایک بیان میں اعلان کیا کہ اس نے شام کی سرحد کے قریب گولان کی پہاڑیوں میں اضافی فورسز کو تعینات کر دیا ہے تاکہ خطے میں دفاع کو مضبوط کیا جا سکے اور مختلف حالات کے لیے تیاری کی جا سکے۔
گزشتہ روز اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے فوج کو اعلیٰ سطح کی تیاری برقرار رکھنے اور شام کی پیش رفت کی نگرانی جاری رکھنے کی ہدایات جاری کیں۔ کاٹز نے مزید کہا کہ فوج کسی بھی منظر نامے کے لیے اور اسرائیل کے سلامتی کے مفادات کے تحفظ کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔اس وقت ہوا جب مسلح دھڑوں کی تیزی سے پیش قدمی کی اور شام کی مسلح افواج نے بغیر کسی مزاحمت کے کئی مقامات سے پسپائی اختیار کرلی ہے۔
اس پیش رفت پر اسرائیلی سیاسی حلقوں میں حیرانی کا ماحول ہے۔ اسرائیلی انٹیلی جنس کی صورت حال کے جائزے میں دمشق کے جلد سقوط کا امکان ظاہر کیا گیا تھا۔گزشتہ ہفتے سے مسلح دھڑوں نے حلب پر ادلب سے اچانک حملہ کیا۔ اسے مکمل طور پر اپنے کنٹرول میں لے لیا،۔ پھر حماۃ پر قبضہ کیا اور حمص کے شمالی حصے میں داخل ہو کر اسے بھی کنٹرول کرنے کی دھمکی دی ہے۔ اسی وقت مقامی مسلح دھڑوں نے جنوب میں درعا کا کنٹرول سنبھال لیا اور اردن کے ساتھ نصیب سرحدی کراسنگ پر قبضہ کر لیا۔








