ملائشیا میں بالخصوص نوجوان اور زیادہ مذہبی ملائے ووٹروں میں قدامت پسند اسلامی پالیسیوں کی حمایت میں بڑی تیزی سے اضافہ ہوا ہےملائیشیا کے سیاسی منظر نامے میں حالیہ برسوں میں نمایاں تبدیلی آئی ہے، جس کا ثبوت اسلام پر مبنی جماعتوں کا عروج ہے۔
اگرچہ یہ جنوب مشرقی ایشیا کے سب سے زیادہ نسلی اعتبار سے متنوع ممالک میں سے ایک ہے، لیکن حکمران اتحاد کے مبینہ لبرل ایجنڈے کے خلاف بڑھتا ہوا عوامی عدم اطمینان وزیر اعظم انور ابراہیم کی اقتدار پر گرفت کے لیے ایک اہم چیلنج بن گیا ہے۔اپوزیشن پریکتان نیشنل (پی این) یا نیشنل الائنس، پانچ جماعتی گروپ کا ایک اتحاد ہے، جس میں ملائیشین اسلامک پارٹی (پی اے ایس) بھی شامل ہے۔ گزشتہ دہائی میں اس نے کافی مقبولیت حاصل کی اور انتخابی میدان میں بھی کامیابیاں مل رہی
اس نے 2023 کے ریاستی انتخابات میں حیران کن انتخابی کامیابی حاصل کی، اور 245 میں سے 146 سیٹیں جیت کر کئی ریاستوں میں حکومتیں بنائیں۔
یہ انتخابات ایک اہم موڑ ثابت ہوئے، کیونکہ انہوں نے شمالی اور مشرقی ساحلی ریاستوں میں پی این کے کنٹرول کو مضبوط کیا اور خاص طور پر نوجوان اور زیادہ قدامت پسند ملائے ووٹروں میں اس کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو ظاہر کیا۔
***سبز لہر؟جن ریاستوں، مثلاﹰ کیلنتان، تیرینگانو، کیداہ اور پرلیس میں پی اے ایس کی حکومتیں ہیں، یہ وہاں اپنے قدامت پسند اسلامی نظریے سے ہم آہنگ پالیسیوں پر زور دے رہی ہے، جس میں حدود (اسلامی فوجداری قانون)، لباس کے سخت ضابطوں کا نفاذ، اور عوامی مقامات پر صنفی علیحدگی کو فروغ دینے کی کوششیں شامل ہیں۔کچھ لوگ اسے اکثر ’’سبز لہر‘‘ کہتے ہیں، جو قدامت پسند اسلامی پالیسیوں کی حمایت میں اضافے کی عکاسی کرتی ہے۔
ایک سیاست دان اور رکن پارلیمان وان سیف وان جان نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’ملائیشیا ہمیشہ سے ایک قدامت پسند معاشرہ رہا ہے، جو لبرل جمہوریت پر عمل کرتا ہے۔ اسلام ہماری قومی شناخت کا مرکز ہے۔ اس لیے اسلامی اقدار کو تھامے رکھنا، یا معاشرے کو اسلامی نظریات کے مطابق ڈھالنا کوئی نئی بات نہیں۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ ’’انور ابراہیم انتظامیہ حکمرانی اور اصلاحات کرنے میں اپنی ناکامی کو چھپانے کے لیے نام نہاد ‘اسلامائزیشن‘ کو ایک واہمے کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ ہمیں اس کی اجازت نہیں دینی چاہیے کہ انور ہمارے اصل مسئلے پر پردہ ڈالنے کی کوشش کریں۔ ان کی انتظامیہ ایک نااہل انتظامیہ ہے۔‘‘
**سیاسی اسلام political islam کا عروج، ایک چیلنج
ملائیشیا ایک کثیر نسلی، مسلم اکثریتی ملک ہے جو تین بڑے نسلی گروہوں ملائے، چینی اور بھارتیوں کا مسکن ہے۔
نسلی ملائے قوم کی 35 ملین سے زیادہ آبادی ہے جو اکثریت میں ہیں، اور آبادی کا تقریباً 60 فیصد ہیں۔ جب کہ نسلی چینی تقریباﹰ ایک چوتھائی ہیں، نسلی بھارتی آبادی تقریباً 7 فیصد ہے۔یہ نسلی گروپ امن اور ہم آہنگی کے ساتھ رہتے ہیں۔ لیکن نسلی، ثقافتی اور مذہبی تناؤ بھی موجود ہیں۔ سیاسی طور پر غالب ملائے کے حق میں کئی دہائیوں کی پالیسیوں کی وجہ سے نسلی تقسیم مزید بڑھ گئی ہے۔اگرچہ انور کی حکومت نے پی اے ایس کے مذہبی قدامت پسندی کے برانڈ کو کھلے عام نہیں اپنایا ہے، لیکن ان کی انتظامیہ کے اقدامات، جیسے کہ اسلامی طرز حکمرانی کے ڈھانچے کو تقویت دینا اور اسلامی نظریات کی وکالت میں شامل ہونا، حزب اختلاف کی بڑھتی ہوئی سیاسی طاقت کے خلاف جان بوجھ کر ردعمل کی نشاندہی کرتے ہیں۔
اگرچہ انور کی پارلیمانی اکثریت کی وجہ سے، ان کی حکومت کی بقا کے لیے کوئی فوری خطرہ نہیں ہے، لیکن پی اے ایس کا اثر و رسوخ ان کے سیاسی ایجنڈے اور دوبارہ انتخابات کے امکانات کے لیے ایک طویل مدتی خطرہ ہے۔تسمانیہ یونیورسٹی میں ایشین اسٹڈیز کے پروفیسر اور جنوب مشرقی ایشیا کے ماہر جیمز چن نے کہا کہ سیاسی اسلام کا عروج ملائیشیا کو اب اور آنے والے کچھ سالوں کے لیے درپیش سب سے بڑا چیلنج ہے۔چن نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’اسلام پسندوں نے نوجوان ملائے کو برین واش کرنے کے لیے بہت سے اسلامی مذہبی اسکول قائم کرنے کے لیے خود کو وقف کر رکھا ہے… بنیادی طور پر انہیں اسلام کی تعلیم دینا ہی ہر چیز کا جواب ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’اہم بات یہ ہے کہ وہ ریاستی نصاب سے ہٹ کر اپنا نصاب ترتیب دینا چاہتے ہیں، جو بنیادی طور پر انہیں اسلام، سیاسی اسلام کو چھوڑ کر اور کچھ نہیں سکھاتا ہے۔‘‘
لیکن چن کے مطابق اسلامائزیشن کی زیادہ تشویشناک وجہ ملائیشیا کی ترقی اور اچھی ملازمتیں اور اعلیٰ معیار کی تعلیم فراہم کرنے میں موجودہ ملائے مسلم سیاسی جماعتوں کی ناکامی ہے۔
انہوں نے زور دے کر کہا،’’نوجوان ملائے موجودہ نظام سے مایوس ہو رہے ہیں، اس لیے وہ اسلام کی طرف رخ کرتے ہیں۔ جو پیغام دیا جا رہا ہے وہ یہ ہے کہ اگر آپ کے پاس سیاسی نظام یا اسلامی طرز حکمرانی ہے، تو یہ بدعنوانی ختم ہو جائے گی اور آپ کو زندگی میں ایک بہتر موقع ملے گا۔‘‘چن کے مطابق ’’آنے والے سالوں میں، ملائیشیا بہت زیادہقدامت پسند ہو جائے گا اور وہاں اسلام کی بیوروکریٹائزیشن بہت زیادہ ہو گی۔ ملائشیا میں بالخصوص نوجوان اور زیادہ مذہبی ملائے ووٹروں میں قدامت پسند اسلامی پالیسیوں کی حمایت میں بڑی تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔(ڈی ڈبلیو)








