اردو
हिन्दी
فروری 12, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

خون دل دے کر نکھاری ہے چمن کی تصویر

6 مہینے پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ مضامین
A A
0
42
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

دو لفظ:مفتی اشفاق قاضی* 

۱۵ اگست ۱۹۴۷ء کا دن ہندوستان کی تاریخ کا ایک سنہرا باب ہے۔ یہ وہ دن ہے جب صدیوں کی غلامی، معاشی استحصال، اور سیاسی جبر کے بعد یہ ملک انگریزوں کے پنجہ استبداد سے آزاد ہوکر پرسکون فضا میں سانس لینے لگا۔ آج اس واقعہ کو ۷۹ برس گزر چکے ہیں۔ مگر آزادی کا یہ جشن صرف خوشی کا دن نہیں بلکہ یہ دن اپنے ماضی کی قربانیوں کو یاد کرنے، اپنی موجودہ حالت کا جائزہ لینے، اور مستقبل کے لیے لائحہ عمل طے کرنے کا بھی دن ہے۔ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد میں مسلمانوں کا کردار سب سے نمایاں رہا۔ یہ کوئی جذباتی دعویٰ نہیں، بلکہ تاریخ کی شاہدہے کہ۱۸۵۷ء کی پہلی جنگِ آزادی میں علماء اور مسلم مجاہدین نے قیادت کی۔ شاہ عبدالعزیز محد ث دہلوی کا فتوی کہ ہندوستان دارالحرب ہے نے فکری آبیاری کی اور اس کے بعد شہید ٹیپو سلطان، مولانا فضلِ حق خیرآبادی ، مولانا احمد اللہ شاہ مدراسی ، مولانا قاسم نانوتوی ، مولانا رشید احمد گنگوہی ، اسیر مالٹا شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی نے شجر آزادی کا ثمر پانے کےلیے انگریزوں سے کبھی شاملی میں لڑے، مالٹا کو آباد کیا- تحریکِ خلافت (۱۹۱۹-۱۹۲۴ء) میں مسلمانوں نے لاکھوں کی تعداد میں گاندھی جی کی قیادت کو قبول کیا، جس سے ہندو مسلم اتحاد کی نئی راہیں کھلیں۔

جمعیۃ العلماء ہند نے سیاسی پلیٹ فارم پر مسلمانوں کی آواز بن کر انگریز کے خلاف جدوجہد کو تیز کیا۔مولانا حسین احمد مدنی، مولانا ابوالکلام آزاد، مولانا محمد علی جوہر، مولا شوکت علی، مولانا حفظ الرحمان سیوہاروی، مولانا حسرت موہانی اور دیگر رہنماؤں نے مشترکہ قومی جدوجہد پر زور دیا۔مہاتما گاندھی اور مولانا ابوالکلام آزاد کا ساتھ، ۱۹۱۹ء کی خلافت کانفرنس، ۱۹۲۰ء کی عدم تعاون تحریک، اور ۱۹۴۲ء کی بھارت چھوڑو تحریک اس بات کی واضح دلیل ہیں کہ ہندو مسلم اتحاد ہی آزادی کی سب سے بڑی طاقت تھی۔آزادی کے بعد یہ توقع تھی کہ ملک کے تمام شہری برابری کے حقوق سے مستفید ہوں گے، مگر مسلمانوں کی حالت اس امید کے برعکس رہی۔سچر کمیٹی رپورٹ (۲۰۰۶ء) اور پروفیسر رنجنا کمیٹی رپورٹ (۲۰۱۴ء) کے مطابق خواندگی کی شرح مسلمانوں میں قومی اوسط سے کم ہے۔اعلیٰ تعلیم میں مسلمانوں کی نمائندگی نہ کے برابر ہے۔ سرکاری ملازمتوں میں مسلمانوں کا تناسب انتہائی نچلے درجے پرہے۔پولیس فورس میں یہ شرح دو فیصد اور عدلیہ میں دو سے بھی کم ہے۔دیہی علاقوں میں ۲۰ فیصد سے زائد مسلمان خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔یہ اعداد و شمار اس بات کا ثبوت ہیں کہ آزادی کے ۷۹ برس بعد بھی مسلمان سماجی، معاشی، اور تعلیمی میدان میں پیچھے ہیں۔آزادی کا مطلب صرف سیاسی اقتدار نہیں بلکہ سماجی انصاف، معاشی خوشحالی، اور فکری آزادی بھی ہے۔ مسلمانوں کو آج بھی ان سب سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ فسادات، ماب لنچنگ، امتیازی قوانین، اور روزگار میں عدم مساوات اس محرومی کو مزید وسعت دیتے ہیںہیں۔آزادی کے بعد کے فسادات (۱۹۶۱ء جبلپور، ۱۹۸۳ء نیلی، ۱۹۸۹ء بھاگلپور، ۱۹۹۲ء ممبئی، ۲۰۰۲ء گجرات، ، ۲۰۱۳ مظفر نگر فسادات، ۲۰۲۰ دہلی فسادات وغیرہ) نے مسلمانوں کے اعتماد کو بار بار ٹھیس پہنچائی۔ ان واقعات نے ثابت کیا کہ آزادی کے باوجود مسلمانوں کے جان و مال کا تحفظ ایک چیلنج ہے۔آئینِ ہند ہر شہری کو مساوی مواقع کی ضمانت دیتا ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ مسلمانوں کے لیے تعلیمی ریزرویشن اور اسکالرشپ میں اضافہ کیا جائے۔ سرکاری ملازمتوں میں مناسبنمائندگی دی جائے۔ اقلیتی علاقوں کی ترقی کے لیے خصوصی بجٹ مختص ہو۔ نفرت انگیز مہمات، اشتعال انگیزی، فسادات اور امتیازی پالیسیوں پر سخت ایکشن ہو۔ یہ کوئی احسان نہیں بلکہ جمہوری حق ہے۔یہ سوال اکثر اٹھتا ہے کہ جب ہم حقیقی آزادی سے محروم ہیں تو پھر یہ دن کیوں منائیں؟جواب یہ ہے کہ یہ دن ہماری قربانیوں کی یاد ہے۔

یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ یہ وطن ہمارے بزرگوں نے اپنے خون سے آزاد کرایا۔ اگر ہم یہ دن نہ منائیں تو نئی نسل اپنے ماضی اور قربانیوں سے ناواقف رہ جائے گی۔یومِ آزادی منانا ضروری ہے تاکہ نئی نسل کو اپنے تاریخی کردار کا علم ہو۔ہم اپنی موجودہ حالت کو بہتر بنانے کا عزم کر  سکیں اور یہ پیغام دیا جا سکے کہ مسلمان اس ملک کے برابر کے شہری ہیں۔۷۹ برس قبل ملی آزادی کا سفر ابھی مکمل نہیں۔ حقیقی آزادی تب ہوگی جب مسلمان بھی ہر میدان میں برابری کا حق پائیں گے، جب ان کے خلاف تعصب اور امتیاز ختم ہوگا، اور جب آئین کے وعدے عملی صورت اختیار کریں گے۔یومِ آزادی کے موقع پر ہمارا پیغام ہے کہ یہ وطن ہمارا ہے، اس کی آزادی ہماری بے شمار قربانیوں کا نتیجہ ہے، اور ہم اس کی حفاظت اور ترقی کے لیے ہمیشہ پرعزم رہیں گے وطن عزیز کی خاک سے کبھی سمجھوتہ نہ کریں گے۔

۱۵ اگست ۱۹۴۷ء کا دن ہندوستان کی تاریخ کا ایک سنہرا باب ہے۔ یہ وہ دن ہے جب صدیوں کی غلامی، معاشی استحصال، اور سیاسی جبر کے بعد یہ ملک انگریزوں کے پنجہ استبداد سے آزاد ہوکر پرسکون فضا میں سانس لینے لگا۔ آج اس واقعہ کو ۷۹ برس گزر چکے ہیں۔ مگر آزادی کا یہ جشن صرف خوشی کا دن نہیں بلکہ یہ دن اپنے ماضی کی قربانیوں کو یاد کرنے، اپنی موجودہ حالت کا جائزہ لینے، اور مستقبل کے لیے لائحہ عمل طے کرنے کا بھی دن ہے۔ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد میں مسلمانوں کا کردار سب سے نمایاں رہا۔ یہ کوئی جذباتی دعویٰ نہیں، بلکہ تاریخ کی شاہدہے کہ۱۸۵۷ء کی پہلی جنگِ آزادی میں علماء اور مسلم مجاہدین نے قیادت کی۔ شاہ عبدالعزیز محد ث دہلوی کا فتوی کہ ہندوستان دارالحرب ہے نے فکری آبیاری کی اور اس کے بعد شہید ٹیپو سلطان، مولانا فضلِ حق خیرآبادی ، مولانا احمد اللہ شاہ مدراسی ، مولانا قاسم نانوتوی ، مولانا رشید احمد گنگوہی ، اسیر مالٹا شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی نے شجر آزادی کا ثمر پانے کےلیے انگریزوں سے کبھی شاملی میں لڑے، مالٹا کو آباد کیا- تحریکِ خلافت (۱۹۱۹-۱۹۲۴ء) میں مسلمانوں نے لاکھوں کی تعداد میں گاندھی جی کی قیادت کو قبول کیا، جس سے ہندو مسلم اتحاد کی نئی راہیں کھلیں۔جمعیۃ العلماء ہند نے سیاسی پلیٹ فارم پر مسلمانوں کی آواز بن کر انگریز کے خلاف جدوجہد کو تیز کیا۔مولانا حسین احمد مدنی، مولانا ابوالکلام آزاد، مولانا محمد علی جوہر، مولا شوکت علی، مولانا حفظ الرحمان سیوہاروی، مولانا حسرت موہانی اور دیگر رہنماؤں نے مشترکہ قومی جدوجہد پر زور دیا۔مہاتما گاندھی اور مولانا ابوالکلام آزاد کا ساتھ، ۱۹۱۹ء کی خلافت کانفرنس، ۱۹۲۰ء کی عدم تعاون تحریک، اور ۱۹۴۲ء کی بھارت چھوڑو تحریک اس بات کی واضح دلیل ہیں کہ ہندو مسلم اتحاد ہی آزادی کی سب سے بڑی طاقت تھی۔آزادی کے بعد یہ توقع تھی کہ ملک کے تمام شہری برابری کے حقوق سے مستفید ہوں گے، مگر مسلمانوں کی حالت اس امید کے برعکس رہی۔سچر کمیٹی رپورٹ (۲۰۰۶ء) اور پروفیسر رنجنا کمیٹی رپورٹ (۲۰۱۴ء) کے مطابق خواندگی کی شرح مسلمانوں میں قومی اوسط سے کم ہے۔اعلیٰ تعلیم میں مسلمانوں کی نمائندگی نہ کے برابر ہے۔ سرکاری ملازمتوں میں مسلمانوں کا تناسب انتہائی نچلے درجے پرہے۔پولیس فورس میں یہ شرح دو فیصد اور عدلیہ میں دو سے بھی کم ہے۔دیہی علاقوں میں ۲۰ فیصد سے زائد مسلمان خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔یہ اعداد و شمار اس بات کا ثبوت ہیں کہ آزادی کے ۷۹ برس بعد بھی مسلمان سماجی، معاشی، اور تعلیمی میدان میں پیچھے ہیں۔آزادی کا مطلب صرف سیاسی اقتدار نہیں بلکہ سماجی انصاف، معاشی خوشحالی، اور فکری آزادی بھی ہے۔ مسلمانوں کو آج بھی ان سب سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ فسادات، ماب لنچنگ، امتیازی قوانین، اور روزگار میں عدم مساوات اس محرومی کو مزید وسعت دیتے ہیںہیں۔آزادی کے بعد کے فسادات (۱۹۶۱ء جبلپور، ۱۹۸۳ء نیلی، ۱۹۸۹ء بھاگلپور، ۱۹۹۲ء ممبئی، ۲۰۰۲ء گجرات، ، ۲۰۱۳ مظفر نگر فسادات، ۲۰۲۰ دہلی فسادات وغیرہ) نے مسلمانوں کے اعتماد کو بار بار ٹھیس پہنچائی۔ ان واقعات نے ثابت کیا کہ آزادی کے باوجود مسلمانوں کے جان و مال کا تحفظ ایک چیلنج ہے۔آئینِ ہند ہر شہری کو مساوی مواقع کی ضمانت دیتا ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ مسلمانوں کے لیے تعلیمی ریزرویشن اور اسکالرشپ میں اضافہ کیا جائے۔ سرکاری ملازمتوں میں مناسبنمائندگی دی جائے۔ اقلیتی علاقوں کی ترقی کے لیے خصوصی بجٹ مختص ہو۔ نفرت انگیز مہمات، اشتعال انگیزی، فسادات اور امتیازی پالیسیوں پر سخت ایکشن ہو۔ یہ کوئی احسان نہیں بلکہ جمہوری حق ہے۔یہ سوال اکثر اٹھتا ہے کہ جب ہم حقیقی آزادی سے محروم ہیں تو پھر یہ دن کیوں منائیں؟جواب یہ ہے کہ یہ دن ہماری قربانیوں کی یاد ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ یہ وطن ہمارے بزرگوں نے اپنے خون سے آزاد کرایا۔ اگر ہم یہ دن نہ منائیں تو نئی نسل اپنے ماضی اور قربانیوں سے ناواقف رہ جائے گی۔یومِ آزادی منانا ضروری ہے تاکہ نئی نسل کو اپنے تاریخی کردار کا علم ہو۔ہم اپنی موجودہ حالت کو بہتر بنانے کا عزم کر  سکیں اور یہ پیغام دیا جا سکے کہ مسلمان اس ملک کے برابر کے شہری ہیں۔۷۹ برس قبل ملی آزادی کا سفر ابھی مکمل نہیں۔ حقیقی آزادی تب ہوگی جب مسلمان بھی ہر میدان میں برابری کا حق پائیں گے، جب ان کے خلاف تعصب اور امتیاز ختم ہوگا، اور جب آئین کے وعدے عملی صورت اختیار کریں گے۔یومِ آزادی کے موقع پر ہمارا پیغام ہے کہ یہ وطن ہمارا ہے، اس کی آزادی ہماری بے شمار قربانیوں کا نتیجہ ہے، اور ہم اس کی حفاظت اور ترقی کے لیے ہمیشہ پرعزم رہیں گے وطن عزیز کی خاک سے کبھی سمجھوتہ نہ کریں گے۔

**صدر مفتی جامع مسجد بمبئی و بانی فیملی فرسٹ گائیڈنس سینٹر )

ٹیگ: bharatfreedom fightersindependenceMuslimssacrifice

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

Power Decline Political Narrative
مضامین

اقتدار کا ڈھلتا سورج اور ٹوٹتا ہوا بیانیہ!

07 فروری
Muslims Shudra Category Campaign
مضامین

شودروں کے زمرے میں، مسلمانوں کو ڈالنے کی مہم،

02 فروری
AIMIM BJP Muslim Issues
مضامین

مجلس والے بی جے پی کو مسلمانوں کے خلاف نئے نئے ایشو تھمارہے ہیں!

31 جنوری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
World News Brief

عالمی خبریں: اختصار کے ساتھ

جنوری 28, 2026
Urdu Language and Unani Medicine NEP 2020

قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے تناظر میں اردو زبان اور یونانی طب

جنوری 28, 2026
Jamiat Ulema-e-Hind Freedom Role

جمعیتہ علمائے ہند کو آزادی کی تاریخ میں جگہ کیوں نہیں ملی؟

جنوری 31, 2026
AI Quran Tafsir Prohibited

مصنوعی ذہانت (AI) سے قرآن پاک کی تفسیر شرعاً ممنوع :مصری دارالافتاء

جنوری 28, 2026
Vande Mataram Mandatory Muslim Board Objection

وندے ماترم کو لازمی قرار دینا غیر آئینی ،مذہبی آزادی کے مںافی،ناقابل قبول۔:مسلم پرسنل لا بورڈ

Sambhal Madrasa Demolition Land Allegation

سنبھل میں ایک اور ‘غیر قانونی’ مدرسے کو مسمار کردیا گیا سرکاری زمین پر بنانے کا الزام

طلاق حسن سپریم کورٹ انکار

طلاقِ حسن کی آئینی حیثیت کو چیلنج،وہاٹس ایپ اور ای میل سے طلاق پر عبوری روک سے سپریم کورٹ کا انکار

Islamophobia School Separate Function Issue

اسلاموفوبیا: ایک ممتاز نجی اسکول میں مسلم اور غیر مسلم اسٹوڈنٹس کے علیحدہ سالانہ فنکشن، یہ ہوکیا رہا ہے؟

Vande Mataram Mandatory Muslim Board Objection

وندے ماترم کو لازمی قرار دینا غیر آئینی ،مذہبی آزادی کے مںافی،ناقابل قبول۔:مسلم پرسنل لا بورڈ

فروری 12, 2026
Sambhal Madrasa Demolition Land Allegation

سنبھل میں ایک اور ‘غیر قانونی’ مدرسے کو مسمار کردیا گیا سرکاری زمین پر بنانے کا الزام

فروری 12, 2026
طلاق حسن سپریم کورٹ انکار

طلاقِ حسن کی آئینی حیثیت کو چیلنج،وہاٹس ایپ اور ای میل سے طلاق پر عبوری روک سے سپریم کورٹ کا انکار

فروری 12, 2026
Islamophobia School Separate Function Issue

اسلاموفوبیا: ایک ممتاز نجی اسکول میں مسلم اور غیر مسلم اسٹوڈنٹس کے علیحدہ سالانہ فنکشن، یہ ہوکیا رہا ہے؟

فروری 12, 2026

حالیہ خبریں

Vande Mataram Mandatory Muslim Board Objection

وندے ماترم کو لازمی قرار دینا غیر آئینی ،مذہبی آزادی کے مںافی،ناقابل قبول۔:مسلم پرسنل لا بورڈ

فروری 12, 2026
Sambhal Madrasa Demolition Land Allegation

سنبھل میں ایک اور ‘غیر قانونی’ مدرسے کو مسمار کردیا گیا سرکاری زمین پر بنانے کا الزام

فروری 12, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN