امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے محکمہ تعلیم کو ختم کرنے کے حکم نامے پر دستخط کر دیے ہیں۔ ٹرمپ کی جانب سے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کو ان کی انتخابی مہم کے دوران کیے گئے وعدوں اور قدامت پسندوں کے دیرینہ مقصد پوراکرنے سے جوڑا جا رہا ہے۔
صدر ٹرمپ نے محکمہ تعلیم کی کارکردگی کو ’ہوش ربا ناکامیاں‘ قرار دیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ جلد ہی اس کنٹرول سے حاصل ہونے والی رقم ان کی ریاستوں کو واپس کریں گے۔صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’ہم جتنی جلدی ممکن ہو اسے بند کرنے جا رہے ہیں۔‘
تاہم وائٹ ہاؤس نے یہ تسلیم کیا ہے کہ ایجنسی کو مکمل طور پر بند کرنے کے لیے کانگریسمیں قانون سازی کی ضرورت ہو گی۔واضح رہے کہ یہ اقدام پہلے ہی ان افراد کی جانب سے قانونی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے جو ایجنسی کی بندش اور گزشتہ ہفتے اعلان کردہ اس کے عملے میں بڑے پیمانے پر کٹوتیوں کو روکنا چاہتے ہیں۔
جمعرات کو وائٹ ہاؤس میں سکول کی میزوں پر بیٹھے بچوں کے درمیان گھِرے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’امریکہ تعلیم پر کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں کہیں زیادہ رقم خرچ کرتا ہے۔‘
تاہم انھوں نے مزید کہا کہ اس کے باوجود امریکی طلبہ درجہ بندی میں سب سے نچلے درجے پر آتے ہیں۔
وائٹ ہاؤس نے بیان میں کہا کہ ان کی انتظامیہ قانونی دائرہ کار میں آنے والے حصوں میں کٹوتی کرے گی۔
خیال کیا جا رہا ہے کہ ٹرمپ کا یہ ایگزیکٹو آرڈر بھی ممکنہ طور پر اسی طرح کے قانونی چیلنجز کا سامنا کرے گا جیسا ٹرمپ انتظامیہ کے وفاقی حکومت کے حجم کو کم کرنے کے لیے کیے گئے دیگر کئی اقدامات چیلینج کیے گئے ہیں۔یگزیکٹو آرڈر کی دستخطی تقریب کے دوران صدر ٹرمپ نے محکمہ تعلیم کی سربراہ لنڈا میک میہن کی خدمات کو سراہا اور اس امید کا اظہار کیا کہ وہ آخری سیکریٹری آف ایجوکیشن ہوں گی