نئی دہلی،(ار کے بیورو)
ملک کی اردو صحافت کے منظرنامے میں ایک نہایت افسوسناک اور تشویش ناک باب کا اضافہ ہوا ہے۔ اردو صحافت کو نیا رنگ وآہن دینے، مین اسٹریم کا حصہ بنانے اور ملک میں سب سے زیادہ ایڈیشن شائع کرنے والے اردو روزنامہ راشٹریہ سہارا کے ممبئی، بینگلور اور کولکاتا ایڈیشن پہلے ہی بند کیے جاچکے تھے، اب حیدرآباد، لکھنؤ، نئی دہلی، پٹنہ، کانپور اور گورکھپور کے ساتھ اس کے تمام ایڈیشن مکمل طور پر بند کر دیے گئے ہیں۔ اس طرح اردو صحافت کا ایک بڑا اور بااثر ادارہ عملی طور پر تاریخ بنانے کے ساتھ خود تاریخ کا حصہ بن گیا۔ Iگرچہ اس کی صحت کافی عرصہ سے خراب تھی اور کئی طرح کی مشکلات سے دو چار تھا، جس کی وجہ سے آئے دن بحران کی خبر آتی رہتی تھی مگر سچائی یہ ہے کہ عزیز برنی اور پھر (اسد رضا مرحوم ) کی رہنمائی سے محروم ہونے کے بعد سے ہی یہ کشتی لگاتار ہچکولے کھارہی تھی
انتظامیہ نے مختلف لوگوں کو آزمایا مگر اس زریں عہد کو مزید بلندیوں تک پہنچانے کی بات تو بہت دور اس کی چمک دمک برقرار رکھنے میں بھی اس کی بدلتی رہنے والی قیادت بری طرح ناکام ہوگئی ـ آنجہانی سہارا شری واحد شخص تھے جو اردو اخبار سے دلی لگاؤ رکھتے تھے ان کے گزرجانے کے بعد یہ دیوار پر لکھ گیا تھا کہ اب روزنامہ راشٹریہ سہارا کی رحلت کی تاریخ لکھنا باقی تھا
اس فیصلہ نے ان ہزاروں دلوں کو توڑ دیا جو راشٹریہ سہارا کو اردو صحافت میں انقلاب کی نوید سمجھتے ہیں ،اسی کا دکھایا ہوا راستہ ہے کہ آج دوسرے کارپوریٹ اردو کو نفع بخش کاروبار سمجھ کر اس میں انویسٹمنٹ کررہے ہیں اور اس کے راستے کو نقوش منزل بناکر ملٹی ایڈیشن نکالنے کی ہمت کرپارہے ہیں ـ روزنامہ راشٹریہ سہارا کا بند ہونا واقعی اردو جرنلزم کے ایک عہد کا خاتمہ ہے








