امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہوں نے ایران میں پاور پلانٹس پر حملے کا منصوبہ ملتوی کر دیا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان گزشتہ دو دنوں میں نتیجہ خیز بات چیت ہوئی ہے جو جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے محکمہ جنگ (پینٹاگون) کو اگلے پانچ دنوں تک ایران میں پاور پلانٹس اور توانائی کی تنصیبات پر حملہ نہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔
درحقیقت، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر (23 مارچ 2026) کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم Truth Social پر ایک پوسٹ شیئر کی۔ پوسٹ میں انہوں نے کہا کہ مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ گزشتہ دو دنوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہماری دشمنی کے خاتمے اور مشرق وسطیٰ میں مکمل امن کے حصول کے حوالے سے بہت اچھی اور نتیجہ خیز بات چیت ہوئی ہے، ان تفصیلی اور تعمیری بات چیت کی روشنی میں، جو اس ہفتے جاری رہے گی، میں نے محکمہ جنگ (پینٹاگون) کو ہدایت کی ہے کہ وہ اگلے پانچ دنوں میں ایرانی پاور پلانٹس پر حملے سے باز رہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ فیصلہ ایران کو 48 گھنٹے کا الٹی میٹم جاری کرنے کے چند گھنٹے بعد آیا ہے۔ ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر ایران نے اگلے دو دنوں میں آبنائے ہرمز کو بغیر کسی شرط اور دھمکی کے مکمل طور پر نہ کھولا تو امریکہ ایران کے پاور پلانٹس پر بڑے حملے کرے گا۔
•••ایران نے اڑایا نے مذاق
ایران نے اسے بڑی فتح قرار دیتے ہوئے امریکا کا مذاق اڑایا۔ ایران کے قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیشن کے ترجمان ابراہیم رضائی نے امریکا پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ جنگ ابھی جاری ہے اور یہ شیطان کی ایک اور بڑی شکست ہے۔ ہم نے ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکا کو ایک بار پھر شکست دی ہے۔ ایران کا یہ تند و تیز طنز ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پوری دنیا اس عظیم جنگ کے خاتمے کی امید کر رہی تھی لیکن تہران کے سخت موقف سے واضح ہوتا ہے کہ اس نے سفارتی محاذ پر امریکا کو نیچا دکھانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دینے کا عزم کر رکھا ہے۔



