ایک امریکی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ کو ایران پر فوجی حملوں کے آپشنز پر بریفنگ دی گئی ہے جس کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے ایران میں جاری مظاہروں کے موقع پر تہران میں غیرفوجی اہداف پر حملوں سے متعلق سنجیدگی سے غور شروع کردیاـ اخبار کا کہنا ہے کہ ٹرمپ نے ایران پر حملوں کے حوالے سے ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے۔
قبل ازیں امریکی صدر ٹرمپ نے حال ہی میں ایرانی قیادت کو خبردار کیا تھا کہ اگر مظاہرین کو قتل کیا گیا تو وہ ایران پر سخت حملہ کردیں گے۔صدر ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایران ماضی کے مقابلے میں آج کہیں زیادہ آزادی کی جانب دیکھ رہا ہے۔ اور امریکا اس کی مدد کے لیے تیارہے
ادھر ایرانی حکومت نے کہا ہے کہ ایران میں پُرتشدد مظاہروں میں اموات کی تعداد 65 ہوگئی ہے، جن میں 15 سیکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں۔غیرملکی میڈیا کے مطابق ایرانی حکومت نے ملک میں ہنگاموں کے حوالے سے جاری ہونے والے بیان میں کہا ہے کہ اب تک ڈھائی ہزار افراد گرفتار کیے جاچکے ہیں، جن میں سے تہران کے قریب سے 100 مسلح فسادی بھی شامل ہیں۔ایرانی حکومت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ پُرامن احتجاج پر کوئی پابندی نہیں لیکن فسادیوں سے سختی سے نمٹیں گے اور املاک تباہ کرنے والوں کو نہیں چھوڑیں گے۔









