امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو کے درمیان ہونے والی ملاقات میں غزہ جنگ بندی اور دریاستی حل سے متعلق کوئی اعلان نہ ہوسکا۔اسرائیلی وزیرِاعظم نے بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نوبیل امن انعام کے لیے بھی نامپپزد کردیا۔اس سے قبل پاکستان نے ان کو نوبل پرائز کے لیے نامزد کیا تھا
امریکی صدر نے دو ریاستی حل کا سوال یہ کہہ کر اسرائیلی وزیرِاعظم کی جانب اچھال دیا کہ دو ریاستی حل کے سوال کا جواب دینے والا سب سے بہتر آدمی میرے سامنے موجود ہے۔اس پر اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ وہ صرف ان فلسطینیوں کی حکومت چاہتے ہیں کہ جن سے اسرائیل کو کوئی خطرہ نہ ہو، فلسطینیوں کی مجموعی سیکیورٹی کی ذمہ داری اسرائیل کے پاس ہی رہے گی، اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ آزاد ریاست ایسی نہیں ہوتی تو ہمیں اس کی کوئی پرواہ نہیں، ایسی کوئی ریاست قبول نہیں جو اسرائیل کی تباہی کا پلیٹ فارم بن سکتی ہے ہ جانب وائٹ ہاؤس کی جانب سے ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان ہونے والی ملاقات کی تصویر جاری کی گئی ہے جس پر ’فائٹ! فائٹ! فائٹ!‘ کا پیغام درج ہےـ
حماس جنگبندی چاہتی ہے ٹرمپ :اسی دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ حماس غزہ میں جنگ بندی کرنا چاہتی ہے۔ ٹرمپ سے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے وائٹ ہاؤس میں عشائیے پر ملاقات کی۔دو ریاستی حل کے سوال پر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ اس بارے میں نہیں جانتے، نیتن یاہو سے پوچھیں۔فلسطینی شہریوں کی دوسرے ممالک منتقلی کے سوال پر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اسرائیل کے پڑوسی ممالک سے بہت اچھا تعاون ملا
غزہ میں پانچ اسرائیلی فوجی مارے گیے،ایک لاپتہ:شمالی غزہ میں فلسطینی مزاحمت کاروں نے اسرائیلی فوج پر گھات لگا کر حملہ کردیا جس کے نتیجے میں 5 اسرائیلی فوجی ہلاک اور 10 زخمی ہوگئے۔خبر رساں اداروں کے مطابق شمالی غزہ کے علاقے بیت ہنون میں حماس کی جانب سے اسرائیلی فوج کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا۔ حملے کے بعد ایک اسرائیلی فوجی لاپتہ








