فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نوبیل امن انعام چاہتے ہیں تو غزہ جنگ ختم کرانا ہوگی۔میکرون نے کہا کہ ایک ہی شخص ہے جو جنگ بندی کروا سکتا ہے اور وہ ٹرمپ ہیںانہوں نے کہا کہ ٹرمپ پر ذمہ داری اس لیے بھی ہے کہ غزہ جنگ کے لیے ہتھیار ہم نہیں دیتے، ہم وہ آلات اسرائیل کو مہیا نہیں کرتے جو غزہ جنگ کو بڑھاوا دیں۔صدر میکرون کا کہنا تھا کہ غزہ میں جنگ کرنے کے لیے ہتھیار اور آلات امریکا اسرائیل کو دیتا ہے۔میکرون نے کہا کہ اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں صدر ٹرمپ نے دنیا کی سات جنگیں رُکوانے کا کہا، انہیں نوبیل امن انعام ملنا اسی صورت میں ممکن ہے جب غزہ تنازع بھی ختم کرائیں۔فرانسیسی صدر کا مزید کہنا تھا کہ غزہ جنگ ختم کروانے کے لیے ہمیں اسرائیل پر دباؤ ڈالنا ہوگا
وہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پھر اس دعوے کو دہرایا کہ میں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی کروائی، پاک بھارت جنگ سمیت 7 جنگیں رکوائیں، یہ ساتوں جنگیں ان ممالک کے قائدین سے بات کرکے رکوائیں، ان جنگوں کو رُکوانے میں اقوام متحدہ کا ساتھ شامل نہیں تھا۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ امریکا دنیا میں امن کے لیے اپنا کردار ادا کرے گا، ابراہیم معاہدے پر بات چیت چل رہی ہے۔امریکی صدر نے کہا کہ مجھے یہاں بلانے کے لیے بہت شکریہ، میری حکومت کے 8 ماہ کے دوران اچھی تبدیلیاں آنی شروع ہو گئی ہیں، پچھلی انتظامیہ نے ہمارے ملک کو بے انتہا مسائل سے دو چار کیاڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا میں مہنگائی میں کمی ہوئی ہے، سرمایہ کاری بڑھ رہی ہے، امریکا کی معیشت مضبوط اور سرحدیں محفوظ ہیں، اگر کوئی غیر قانونی طور پر امریکا میں داخل ہوا تو اس کو جیل جانا پڑے گاامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ سوچتا ہوں اقوامِ متحدہ کو بنانے کا مقصد کیا تھا؟ اقوامِ متحدہ میں اصلاحات کرنا چاہتا ہوں، جنگ بندی کے موقع پر اقوامِ متحدہ کہاں تھی؟ جنگیں ختم کرانے پر اقوامِ متحدہ سے ایک فون کال بھی موصول نہیں ہوئی، اقوامِ متحدہ اپنی استعدادِ کار کے مطابق کام نہیں کر رہیانہوں نے کہا کہ دنیا میں اس وقت کئی بڑے مسائل ہیں، غزہ میں جنگ بندی ہونی چاہیے، آپریشن کے دوران ایران کے ایٹمی اثاثے تباہ کیے، فلسطین کو تسلیم کرنا حماس کے لیے زبردست انعام ہے، جو لوگ امن چاہتے ہیں انہیں یرغمالیوں کی رہائی کی کوشش کرنی چاہیے، حماس نے امن کی مناسب پیش کشوں کو مسترد کیا، فلسطینی ریاست کا قیام حماس کے لیے اچھا ثابت ہو گا








