اتر پردیش حکومت کی طرف سے فنڈ سے چلنے والے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل اسکیم کے سلسلے میں سنگین بے قاعدگیوں کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ مدرسہ بورڈ نے تمام ضلع مجسٹریٹس کو خط لکھ کر تحقیقات کی ہدایت دی ہے۔ ‘آج تک’کا دعویٰ ہے کہ جب اس نے معاملے کی تحقیقات کرنے کی کوشش کی تو کئی چونکا دینے والے حقائق سامنے آئے۔اس کے دعووں کی آزادانہ تصدیق باقی ہےـ
رپورٹ کے مطابق ‘آج تک’ نے سب سے پہلے محکمہ اقلیتی امور کے ایک اہلکار سون کمار سے بات کی، جس نے وضاحت کی کہ تحقیقات کا مقصد یہ طے کرنا تھا کہ آیا پورٹل پر رجسٹرڈ طلباء تک دوپہر کا کھانا درحقیقت پہنچ رہا ہے یا نہیں انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ خوراک کی تقسیم رجسٹرڈ نمبروں کے مطابق تھی۔ انہوں نے وضاحت کی کہ پسماندہ برادری کی شکایت کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا
پھر لکھنؤ کے پرانے علاقوں ٹھاکر گنج، گھنٹہ گھر ،اکبری گیٹ میں واقع مدارس کا دورہ کیا گیا ۔ ایک مدرسہ پہنچنے پرانتظامیہ نے کیمرے پر بات کرنے سے انکار کر دیا۔ تاہم طلبہ کے ساتھ بات چیت سے جو معلومات سامنے آئیں وہ حیران کن تھیں۔ طلباء نے بتایا کہ انہیں وہاں دوپہر کا کھانا ملتا ہے جس میں نان ویجیٹیرین کھانا شامل ہوتا ہے۔ یہ معلومات اہم ہیں کیونکہ حکومت کی مڈ ڈے میل سکیم عام طور پر سبزی خور کھانے تجویز کرتی ہے۔
آج تک نے جب مدرسہ کی انتظامیہ سے غیر رسمی بات کی تو انہوں نے انکشاف کیا کہ یہاں تقریباً 300 طلبہ ہیں، لیکن دوپہر کا کھانا صرف 150 کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔ مدرسہ باقی طلبہ کے لیے خود کھانا تیار کرتا ہے۔ فنڈنگ کے سوال کے بارے میں، انہوں نے کہا کہ وہ حکومت سے کوئی ادائیگی وصول نہیں کرتے ہیں یہ دعویٰ بہت سے سوالات کو جنم دیتا ہے۔
تحقیقات کو جاری رکھتے ہوئے، آج تک کی ٹیم بارہ بنکی بھی گئی، جہاں انہوں نے شکایت کنندہ محمد طلحہ سے ملاقات کی۔ انہوں نے بلرام پور میں ایک بڑے گھوٹالے کی تفصیل کے ساتھ کئی دستاویزات شیئر کیں۔ 2025 میں منظر عام پر آنے والے اس کیس میں تقریباً 11 کروڑ روپے کا گھوٹالہ شامل تھا، جس کے نتیجے میں 45 افراد کے خلاف الزامات عائد کیے گئے اور متعدد گرفتاریاں ہوئیں۔
یہ الزام لگایا گیا ہے کہ مدارس کے طلباء جو سرکاری امداد حاصل نہیں کر رہے ہیں ان کو مدرسوں میں دکھایا گیا ہے جو طلباء کی تعداد بڑھانے کر ریاستی گرانٹ وصول کرتے ہیں اور اسی بنیاد پر بجٹ میں ہیرا پھیری کی گئی۔ بارہ بنکی میں بھی تحقیقات کے دوران کئی بے ضابطگیاں سامنے آئیں۔ بعض مدارس میں نہ تو کلاسیں چلتی نظر آئیں اور نہ ہی مڈ ڈے میل کا کوئی انتظام دیکھا گیا، جب کہ ریکارڈ میں سینکڑوں طلبہ کے نام درج ہیں۔
گراؤنڈ رپورٹ واضح طور پر بتاتی ہے کہ مڈ ڈے میل سکیم کی زمینی حقیقت ریاستی امداد سے چلنے والے مدارس میں یکساں نہیں ہے۔ اگرچہ کچھ علاقوں میں عمل درآمد مناسب ہے، لیکن یہ دوسروں میں مکمل طور پر تعطل کا شکار ہے۔ کئی مدارس زیر تفتیش ہیں، اور کچھ معاملات میں پہلے ہی کارروائی کی جا چکی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں کتنی سختی کرتی ہے اور وہاں پڑھنے والے بچوں کو ان کے حقوق ملتے ہیں یا نہیں۔







