نئی دہلی: بھارت کی توقعات کے برعکس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بغیر کسی رعایت کے یکم اگست سے بھارت پر 25 فیصد ٹیرف لگانے کا اعلان کیا ہے۔اسی کے ساتھ جرمانہ لگانے کی بات ہے سوشل میڈیا سائٹ ٹروتھ Truth پر ایک پوسٹ میں اس کی وجوہات بھی بیان کی ہیں جیسے کہ بھارت ہمیشہ اپنے فوجی ساز و سامان کا بڑا حصہ روس سے خریدتا ہے۔ اس سے لگتا ہے کہ بھارت امریکہ کے درمیان تعلقات ٹھیک نہیں ہیں
ٹرمپ نے لکھا، یاد رکھیں، بھارت ہمارا دوست ہے، لیکن گزشتہ چند سالوں میں ہم نے ان کے ساتھ نسبتاً کم تجارت کی ہے کیونکہ ان کے ٹیرف بہت زیادہ ہیں، دنیا میں سب سے زیادہ ہیں اور ان کے پاس کسی بھی ملک کے مقابلے سب سے زیادہ سخت، غیر مالیاتی تجارتی رکاوٹیں ہیں۔
ٹرمپ نے مزید کہا، "اس کے علاوہ، ہمیشہ اپنے فوجی سازوسامان کا ایک بڑا حصہ روس سے خریدا ہے۔ بھارت چین کے ساتھ ساتھ روس کا توانائی کا سب سے بڑا خریدار ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب ہر کوئی چاہتا ہے کہ روس یوکرین میں قتل و غارت بند کرے- سب کچھ ٹھیک نہیں ہے! اس لیے بھارت کو یکم اگست سے 25 فیصد ٹیرف اور جرمانہ ادا کرنا پڑے گا۔ اس معاملے پر دھیان دینے کے لیے آپ کا شکریہ
واضح رہے کہ امریکی صدر کا بھارت پر 25 فیصد ٹیرف لگانے کا اعلان ڈیڈ لائن کو یکم اگست تک بڑھانے کے چند روز بعد سامنے آیا ہے۔ بھارتی درآمدات پر ڈیوٹی کا اعلان کرنے سے کچھ دیر پہلے انہوں نے کہا تھا کہ ڈیڈ لائن برقرار رہے گی، جس کا مطلب ہے کہ بھارت جمعہ سے ٹیرف لگانے کی توقع کر سکتا ہے۔








