برطانیہ کی حکومت کے کئی وزراء وزیرِ اعظم کیئر اسٹامر پر دباؤ ڈال رہے ہیں تاکہ وہ فلسطینی ریاست کو با ضابطہ تسلیم کرنے کے فیصلے میں تاخیر نہ کریں۔ یہ بات بلومبرگ نیوز ایجنسی کی ایک رپورٹ میں بتائی گئی۔فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکروں نے جمعرات کے روز اعلان کیا تھا کہ فرانس اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ستمبر میں ہونے والے اجلاس میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا۔
ماکروں نے "ایکس” اور "انسٹاگرام” پر لکھا "مشرقِ وسطیٰ میں منصفانہ اور پائے دار امن سے اپنی تاریخی وابستگی کے پیشِ نظر، میں نے فیصلہ کیا ہے کہ فرانس فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا۔ میں اس کا با ضابطہ اعلان اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ستمبر کے اجلاس میں کروں گا۔”یہ اعلان ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب فرانس اور سعودی عرب مل کر ایک بین الاقوامی سربراہی کانفرنس کی قیادت کرنے والے ہیں جس کا مقصد "دو ریاستی حل” کے عمل کو دوبارہ شروع کرنا ہے۔ یہ کانفرنس جون میں ہونا تھی، لیکن اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ چھڑنے کے باعث آخری لمحے میں مؤخر کر دی گئی۔ اب اسی موضوع پر ایک وزارتی اجلاس 28 اور 29 جولائی کو نیویارک میں ہو گا
اسی دوران امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ واشنگٹن، فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکروں کے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے منصوبے کو مسترد کرتا ہے۔
روبیو نے آج جمعے کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس” پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ "یہ غیر ذمے دارانہ فیصلہ صرف حماس کی پروپیگنڈا مہم کو فائدہ دیتا ہے اور امن کی راہ میں رکاوٹ ہے۔”








