اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان سمیت دس غیر مستقل رکن ممالک کی غزہ میں غیر مشروط مستقل جنگ بندی کی قرارداد امریکا نے ویٹو کردی۔عرب میڈیا کے مطابق یو این سلامتی کونسل میں 14 ارکان نے قرارداد کی حمایت میں ووٹ دیا۔
امریکا کی جانب سے غزہ میں غیر مشروط مستقل جنگ بندی کی قرارداد کو چھٹی بار ویٹو کیا گیا ہے۔ویٹو کی گئی قرار داد میں غزہ میں فوری، غیر مشروط اور مستقل جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا تھا اور اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ فلسطینی علاقے میں امدادی سامان کی فراہمی پر عائد تمام پابندیاں ختم کرے۔یہ قرارداد سلامتی کونسل کے 15 میں سے 10 غیر مستقل رکن ممالک نے پیش کی تھی جس میں پاکستان بھی شامل تھا۔واضح رہے کہ امریکی ویٹو ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ میں انسانی بحران شدت اختیار کر چکا ہے اور عالمی سطح پر جنگ بندی کے لیے دباؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔دوسری جانب امریکا کے اس اقدام پر کئی ممالک نے مایوسی کا اظہار کیا ہےوہیں قطر نےاسرائیلی حملے کے خلاف عالمی فوجداری عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا دیا، قطر کے وزیر نے عدالت کو قانونی چارہ جوئی پر غور سے آگاہ کیا۔ 9 ستمبر کو دوحہ پر اسرائیلی حملے کے خلاف قانونی اقدام کے سلسلے میں قطر نے عالمی فوجداری عدالت (آئی سی سی) سے رابطہ کر لیا ہے۔ قطر کے اعلیٰ مذاکرات کار محمد الخلیفی نے بدھ کے روز دی ہیگ میں عالمی فوجداری عدالت کے سربراہ سے ملاقات کی۔
قطر کا یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آئی سی سی نے پہلے ہی اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو پر جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم پر مقدمہ دائر کر رکھا ہے۔ ان الزامات میں جان بوجھ کر عام شہریوں کو نشانہ بنانا اور جنگی ہتھیار کے طور پر بھوک کا استعمال شامل ہیں، جو غزہ میں اسرائیل کی کارروائیوں کے دوران کیے گئے








