امریکہ اور ایران کے درمیان ایک بار پھر پروپیگنڈہ وار تیز ہوگئیں ہے ،دوموب اعصابی جنگڑرہے ہیں ـ دونوں کے تعلقات اس وقت انتہائی کشیدہ دور سے گزر رہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کو سبق سکھانے کے موڈ میں ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان ممکنہ جنگ کا ماحول بنتا دکھائی دے رہا ہے۔ دریں اثنا، ہندوستان نے ایران میں مقیم ہندوستانی شہریوں کے حوالے سے ایک ایڈوائزری بھی جاری کی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ ایران میں اس وقت ہزاروں افراد کو ان کے فون پر نامعلوم نمبر سے پیغامات موصول ہو رہے ہیں۔ یہ پیغام فارسی زبان میں ہے، جس میں لکھا ہے wait and see- انتظار کرو اور دیکھو۔
اہرام کےسپریم لیڈر خامنہ ای کے ٹھکانے کے بارے میں مختلف نظریات سامنے آ رہے ہیں۔ ایرانی میڈیا رپورٹس میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ خامنہ ای نے امریکی حملے کے پیش نظر اپنے جانشین کا انتخاب کیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایسا کیا ہوا جس کی وجہ سے خامنہ ای نے اچانک اپنا جانشین چن لیا۔ کیا خامنہ ای کو اس بات کا علم ہو گیا ہے کہ امریکہ نے ان کے خفیہ بنکر کی جگہ کا سراغ لگا لیا ہے؟ کیا ٹرمپ کا اگلا ہدف خامنہ ای کا خفیہ بنکر ہے؟
امریکی صدر کی ڈیڈ لائن میں ابھی کچھ وقت باقی ہے لیکن ایران کے اندر حالات اچانک تبدیل ہو رہے ہیں۔ ایرانی طلباء نے ایک بار پھر خامنہ ای کے خلاف احتجاج شروع کر دیا ہے۔ یہ مظاہرے تہران اور ایران بھر کی پانچ مختلف یونیورسٹیوں میں شروع ہو چکے ہیں۔ طلباء کا مطالبہ ہے کہ خامنہ ای گدی چھوڑیں
گزشتہ چند گھنٹوں میں، مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں اور برطانوی فضائیہ کے اسٹیشنوں پر سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے۔ دفاعی ماہرین امریکی فضائیہ کی نقل و حرکت اور تیاریوں کو ایران کے خلاف حملے کا ایک بڑا اشارہ سمجھ رہے ہیں۔ F-15E اسٹرائیک ایگلز کو چھ F-22 لڑاکا طیاروں کے ساتھ برطانیہ میں RAF Lakenheath بیس پر تعینات کیا گیا ہے۔ امریکی فضائیہ کا E-3 سنٹری، ایک ایئر بورن وارننگ اور کنٹرول سسٹم، برطانیہ میں RAF ملڈن ہال بیس پر تعینات کیا گیا ہے۔ یہ امریکی فوج کا ہائی ٹیک ایئر ریڈار سسٹم ہے، جو جنگی حالات میں نگرانی، کمانڈ اور مواصلات کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں اپنے فوجی اڈوں پر RC-135 Rivet جوائنٹ انٹیلی جنس طیارے اور P-8 Poseidon سمندری گشتی طیارے بھی تعینات کیے ہیں۔ یہ وہی طیارے ہیں جو ٹرمپ نے گزشتہ سال آپریشن مڈ نائٹ ہیمر کے دوران ایرانی جوہری مقامات پر حملے کے لیے استعمال کیے تھے۔ اہم بات یہ ہے کہ امریکہ نے گزشتہ چند گھنٹوں میں 18 F-35 لڑاکا طیارے مشرق وسطیٰ میں تعینات کیے ہیں۔ امریکی بحریہ بحیرہ عرب سے آبنائے ہرمز تک ایران کو سمندری راستے سے گھیرنے کے لیے موجود ہے۔
ایران میں کیا کچھ ہونے والا ہے؟
امریکہ اور ایران اب جنگ سے صرف ایک قدم کے فاصلے پر ہیں۔ امریکی فضائیہ اور بحریہ ایران کے ساتھ بھرپور جنگ کی تیاری کررہی ہیں ایران کے ساتھ مکمل جنگ کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ اس بار محدود اسٹرائیک پر نہیں رکیں گے۔ منصوبہ ایران میں حکومت کی تبدیلی کا ہے









