امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے انڈیا اور پاکستان کے درمیان حالیہ جھڑپ کے بعد ہونے والی جنگ بندی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان ہونے والی سرگرمیوں پر امریکہ کی ہمہ وقت نظر ہے اور وہ اس کی ‘ہر روز’ نگرانی کرتا ہے۔
روبیو نے این بی سی نیوز کے ‘میٹ دی پریس‘ پروگرام میں کہا: ‘جنگ بندی کا واحد طریقہ یہ ہے کہ تنازع میں شامل فریق اگر ایک دوسرے پر فائرنگ بند کرنے پر راضی ہو جائیں (تو یہ جنگ بندی ہے) اور روس نے ابھی تک اس پر اتفاق نہیں کیا ہے۔’ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘جنگ بندی کی پیچیدگیوں میں سے ایک یہ ہے کہ اسے برقرار رکھنا پڑتا ہے، جو ایک مشکل امر ہے۔ میرا مطلب ہے کہ ہم ہر روز اس بات کی نگرانی کرتے ہیں کہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان کیا ہو رہا ہے؟ کمبوڈیا اور تھائی لینڈ کے درمیان کیا ہورہا
امن قائم کرنے کے لیے ہر ممکن اقدام کریں گے
امریکی وزیر خارجہ نے یوکرین اور روس کے حوالے سے کہا: ‘جنگ بندی بہت تیزی سے ٹوٹ سکتی ہے، خاص طور پر (یوکرین) کی جنگ کے بعد جو ساڑھے تین سال سے جاری ہے۔ لیکن میں نہیں سمجھتا کہ کوئی اس بات سے اختلاف کرے گا کہ ہم مستقل جنگ بندی لانے کی کوشش نہیں کر رہے ہیں۔ ہمارا مقصد ایک امن معاہدے تک پہنچنا ہے، تاکہ ابھی کوئی جنگ نہ ہو اور مستقبل میں کوئی جنگ نہ ہو۔’
ساتھ ہی ‘فاکس نیوز‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے روبیو نے ایک بار پھر انڈیا اور پاکستان کے درمیان حالیہ فوجی تنازعے کا ذکر کیا۔ روبیو نے کہا: ‘میں سمجھتا ہوں کہ ہم بہت خوش قسمت ہیں اور ہمیں ایک ایسے صدر کا شکرگذار ہونا چاہیے جس نے امن کی بحالی کو اپنی انتظامیہ کی ترجیح بنایا ہے۔’ہم نے اسے کمبوڈیا اور تھائی لینڈ میں دیکھا ہے۔ ہم نے اسے انڈیا اور پاکستان کے درمیان دیکھا ہے۔ ہم نے اسے روانڈا اور ڈی آر سی (ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو) میں دیکھا ہے۔ اور ہم دنیا میں امن کے ہر ممکن مواقع سے فائدہ اٹھاتے رہیں گے۔’
اب تک 40 بار ہند پاک جنگ روکنے کا دعویٰ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 10 مئی کو سوشل میڈیا پر اعلان کیا کہ انڈیا اور پاکستان نے واشنگٹن کی ثالثی میں ہونے والی ‘طویل رات’ کی بات چیت کے بعد ‘مکمل اور فوری’ جنگ بندی پر اتفاق کیا۔اس کے بعد سے، ٹرمپ نے تقریباً 40 بار دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے انڈیا اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کو ‘حل’ کرنے میں مدد کی ہے اور ان جوہری ہتھیاروں سے لیس پڑوسیوں سے کہا ہے کہ اگر وہ تنازع بند کر دیتے ہیں تو امریکہ ان کے ساتھ ‘بہت زیادہ کاروبار’ کرے گا۔وزیر اعظم نریندر مودی نے پارلیمنٹ میں کہا ہے کہ ’آپریشن سندور‘ کو روکنے میں کسی بھی ملک کے رہنما کی ثالثی نہیں ہے








