وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو نے منگل کو کہا کہ اسرائیل فلسطینیوں کو غزہ کی پٹی سے نکلنے دے گا جیسا کہ فوج علاقے میں وسیع حملے کی تیاری کر رہی ہے۔
ماضی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی غزہ کے باشندوں کو جنگ زدہ علاقے سے باہر آباد کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں جس سے فلسطینیوں میں تشویش پیدا ہوئی اور عالمی برادری نے اس کی مذمت کی۔اسرائیلی نشریاتی ادارے آئی 24 نیوز کو ایک انٹرویو میں نیتن یاہو نے کہا، "ہم انہیں باہر نہیں نکال رہے بلکہ جانے کی اجازت دے رہے ہیں۔”انہوں نے شام، یوکرین اور افغانستان میں جنگوں کے دوران پناہ گزینوں کے اخراج کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، "انہیں سب سے پہلے جنگی علاقے چھوڑنے کا موقع دیں اور اگر وہ چاہیں تو عمومی طور پر علاقہ چھوڑ دیں۔”
غزہ کی پٹی میں اسرائیل نے برسوں سے سرحدوں کو سختی سے کنٹرول کیا ہے اور بہت سے لوگوں کو وہاں سے نکلنے سے روک دیا ہے۔
نیتن یاہو نے کہا، "ہم لڑائی کے دوران سب سے پہلے غزہ کے اندر اس کی اجازت دیں گے اور ہم یقیناً انہیں غزہ چھوڑنے کی بھی اجازت دیں گے۔”فلسطینیوں کے لیے انھیں ان کی سرزمین سے زبردستی دھکیلنے کی کوئی بھی کوشش "نقبہ” یا تباہی کی یاد دلاتی ہے۔ 1948 میں اسرائیل کی تخلیق کے دوران یہ فلسطینیوں کی بڑے پیمانے پر نقلِ مکانی تھی۔اس سال کے شروع میں ٹرمپ نے یہ واضح تجویز دے کر تنازعہ کھڑا کر دیا تھا کہ امریکہ کو غزہ کا کنٹرول سنبھال لینا اور اس کے 2.4 ملین باشندوں کو مصر اور اردن منتقل کر دینا چاہیے۔نیتن یاہو نے پہلے یہ بھی کہا تھا کہ ان کی حکومت غزہ کی آبادی کو قبول کرنے کے لیے تیسرے ممالک کی تلاش کر رہی تھی۔ قبل ازیں ٹرمپ نے انہیں بے دخل کرنے اور علاقے کو تفریحی مقام کے طور پر دوبارہ بنانے کی تجویز دی تھی۔
نیتن یاہو کے اتحاد میں انتہائی دائیں بازو کے وزراء نے غزہ کے فلسطینیوں کی "رضاکارانہ” روانگی کا مطالبہ کیا ہے۔








