جائزہ:عبد الرقیب خاں
مغربی بنگال کی سیاسی تاریخ کئی دہائیوں پر محیط ایک مسلسل تبدیلی کی کہانی ہے۔1947 سے 1977 تک ریاست میں زیادہ تر کانگریس کی حکومت رہی، اگرچہ چند برس کانگریس سے الگ ہو کر بنگلہ کانگریس نے بھی اقتدار سنبھالا۔
1977 سے 2011 تک بائیں بازو کی جماعت سی پی ایم اور لیفٹ فرنٹ نے طویل عرصے تک حکومت کی۔ اس پورے دور میں ریاست کی سیاست بنیادی طور پر کانگریس بمقابلہ لیفٹ کے گرد گھومتی رہی۔ اس عرصے میں نہ تو بی جے پی کبھی اقتدار میں آئی اور نہ ہی وہ مرکزی اپوزیشن بن سکی۔
2011 میں سیاست کا منظرنامہ بدلا، جب ممتا بنرجی کی قیادت میں ترنمول کانگریس اقتدار میں آئی۔ 1998 میں کانگریس سے الگ ہو کر بنی یہ پارٹی 2011، 2016 اور 2021 میں لگاتار تین مرتبہ حکومت بنانے میں کامیاب رہی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ 2011 اور 2016 میں بھی بایاں محاذ ہی مرکزی اپوزیشن رہا۔
لیکن 2021 کے اسمبلی انتخابات نے ایک نئی سیاسی حقیقت کو جنم دیا۔
48 فیصد ووٹ کے ساتھ ترنمول کانگریس نے حکومت بنائی، جبکہ 38 فیصد ووٹ حاصل کر کے بی جے پی پہلی مرتبہ ریاست کی مرکزی اپوزیشن بن گئی۔جس بی جے پی کا ووٹ شیئر کبھی محض 4 فیصد کے آس پاس ہوا کرتا تھا، وہ آج تقریباً 38 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔
اعداد و شمار خود بولتے ہیں:
2006
ترنمول: 30 سیٹیں — 26.64٪
بی جے پی: 0 سیٹ — 1.93٪
کانگریس: 21 سیٹیں — 14.71٪
لیفٹ فرنٹ: 176 سیٹیں — 37.13٪
2011
ترنمول: 184 سیٹیں — 38.93٪
بی جے پی: 4 سیٹیں — 4.06٪
کانگریس: 42 سیٹیں — 9.9٪
لیفٹ فرنٹ: 40 سیٹیں — 30.08٪
2016
ترنمول: 211 سیٹیں — 44.91٪
بی جے پی: 6 سیٹیں — 10.63٪
کانگریس: 44 سیٹیں — 12.25٪
لیفٹ فرنٹ: 77 سیٹیں — 39.16٪
2021
ترنمول: 215 سیٹیں — 48.02٪
بی جے پی: 77 سیٹیں — 38.15٪
کانگریس: 0 سیٹ — 2.93٪
لیفٹ فرنٹ: 0 سیٹ — 4.73٪
ان اعداد و شمار سے صاف ظاہر ہے کہ گزشتہ تین انتخابات میں ترنمول کانگریس اور بی جے پی کا ووٹ شیئر مسلسل بڑھا ہے، جبکہ کانگریس اور بائیں بازو کی جماعتیں بتدریج کمزور ہوتی گئیں۔ یہی وجہ ہے کہ جو جماعتیں کبھی دہائیوں تک اقتدار میں رہیں، انہیں 2021 میں مل کر الیکشن لڑنا پڑا۔
ایک اہم سماجی پہلو توجہ طلب ہے۔
ریاست میں دلت آبادی تقریباً 23 فیصد اور مسلم آبادی تقریباً 27 فیصد ہے، مگر اس کے باوجود آج تک مغربی بنگال کو کوئی غیر سَوَرَن وزیر اعلیٰ نہیں ملا۔ اب تک صرف سَوَرَن بھدرلوک طبقے (برہمن، کائستھ اور بیدّی) سے تعلق رکھنے والے ہی وزرائے اعلیٰ بنتے رہے ہیں۔جیوتی باسو (کائستھ)، بدھادیو بھٹاچاری (برہمن) اور ممتا بنرجی (برہمن) اس کی واضح مثال ہیں۔
دلتوں اور مسلمانوں کی سماجی، معاشی اور سیاسی حالت آج بھی کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔ متعدد اسمبلی اور لوک سبھا حلقوں میں ان کی تعداد فیصلہ کن ہونے کے باوجود، مناسب نمائندگی کا فقدان محسوس کیا جاتا ہے۔
2026 میں ریاست میں ایک بار پھر اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔
دیکھنا یہ ہے کہ بدلتے سیاسی و سماجی حالات میں عوام کس سمت کا انتخاب کرتے ہیں—
واقعی، اس بار اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے؟آپ کی رائے اس بحث کو مزید بامعنی بنا سکتی ہے۔








