تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان جو جھگڑا یا جنگی کشیدگی وقتاً فوقتاً ابھرتی رہی ہے، اس کی جڑیں تاریخی، سرحدی تنازع، ثقافتی ورثے اور قوم پرستی سے جڑی ہوئی ہیں۔ اس کا سب سے نمایاں اور پرانا سبب "پریاہ ویہیر مندر” (Preah Vihear Temple) ہے۔
*- تنازع کی بنیاد: پریاہ ویہیر مندر
■ مندر کا محلِ وقوع:
پریاہ ویہیر (Preah Vihear) ایک ہندو مندر ہے جو کمبوڈیا اور تھائی لینڈ کی سرحد کے قریب پہاڑ پر واقع ہے۔مندر جغرافیائی لحاظ سے سرحد پر ہے، لیکن اس کی ملکیت پر دونوں ممالک دعویٰ کرتے ہیں۔
■ تاریخی پس منظر:
یہ مندر 11ویں صدی میں کھمر سلطنت (Khmer Empire) کے دور میں تعمیر ہوا۔فرانسیسی نوآبادیاتی دور میں جب کمبوڈیا فرانسیسی انڈوچائنا کا حصہ تھا، تب فرانسیسی سروے نے مندر کو کمبوڈیا کا حصہ قرار دیا۔1962 میں انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس (ICJ) نے مندر کو کمبوڈیا کا حصہ قرار دیا، لیکن اس فیصلے پر تھائی لینڈ نے جزوی اعتراضات اٹھائے، خاص کر اس کے اردگرد کے علاقے پر۔
حالیہ کشیدگی کی وجوہات
1. قوم پرستی اور سیاسی مفادات:دونوں ممالک میں قوم پرستانہ جذبات کو ابھارنے کے لیے سیاسی جماعتیں اس مسئلے کو استعمال کرتی ہیں۔تھائی لینڈ میں کچھ گروہ اس فیصلے کو تسلیم نہیں کرتے اور مندر کے ارد گرد علاقوں پر دعویٰ برقرار رکھتے ہیں۔
2. یونیسکو کا فیصلہ (2008):2008 میں کمبوڈیا نے مندر کو یونیسکو عالمی ورثہ (UNESCO World Heritage Site) قرار دلوانے میں کامیابی حاصل کی۔
تھائی لینڈ نے اس کی شدید مخالفت کی اور الزام لگایا کہ کمبوڈیا نے اس موقع کو استعمال کرتے ہوئے سرحدی حدود کو چھیڑا۔
3. فوجی جھڑپیں:2008 سے 2011 کے درمیان کئی مرتبہ سرحدی علاقوں میں فوجی جھڑپیں ہوئیں، جس میں دونوں طرف کے فوجی اور شہری ہلاک ہوئے۔2011 میں ایک مرتبہ پھر کشیدگی بڑھی اور بھاری توپوں اور راکٹ حملوں کا تبادلہ ہوا۔
4. آئی سی جے icj کی دوبارہ تشریح (2013)کمبوڈیا نے ICJ سے درخواست کی کہ وہ 1962 کے فیصلے کی تشریح کرے۔2013 میں ICJ نے کہا کہ مندر کے گرد کا علاقہ بھی کمبوڈیا کا حصہ ہے، جس پر تھائی لینڈ کو اعتراض رہا۔
,•• حالیہ صورتحال (2025 کے تناظر میں)
حالیہ کشیدگی کی خبریں دوبارہ منظر پر آئیں ہیں، خاص طور پر نیشنلزم کے بڑھتے رجحانات اور مقامی سیاست میں اس مسئلے کے استعمال کی وجہ سے۔گرچہ مکمل جنگ کی کیفیت نہیں، مگر فوجی تناؤ، بارودی سرنگیں، سرحدی چوکیاں، اور مقامی افراد کی نقل مکانی جیسی صورتحال برقرار ہے۔اقوام متحدہ اور آسیان (ASEAN) جیسے ادارے اس معاملے میں ثالثی کرتے رہے ہیں، لیکن سرحدی نقشے، تاریخی ورثہ، اور قومی انا نے مسئلے کو پیچیدہ رکھا ہے۔
مختصر طور پر کہیں تو اس صورتحال کی وجوہات یہ ہیں **مذکورہ تاریخی مندر پر دونوں ممالک کا دعویٰ
**نوآبادیاتی ورثہ فرانسیسی دور کے سرحدی نقشوں کی تشریح متنازع
**آئی سی جے کے 1962 اور 2013 کے فیصلے مختلف انداز میں دیکھے جاتے ہیں دونوں ممالک کی سیاست میں اس کا استعمال اور فوجی تصادم 2008-2011 میں متعدد جھڑپیں ہوچکیں-موجودہ صورتحال میں تناؤ موجود ہے، مگر مکمل جنگ نہیں
—








