( مولانا)ذکی نور عظیم ندوی ۔ لکھنؤ
یہ ایک نا قابل تردید حقیقت ہے کہ قرآن و ذخیرہ حدیث میں ربیع الاول کے تعلق سے کوئی بھی ایسا نص نہیں جو اس کو شب قدر، ذی الحجہ کے عشرہ، رمضان المبارک کے مہینہ یا محرم الحرام، یوم عرفہ یا یوم عاشورہ یہاں تک کہ جمعہ کے دن کی مانند کسی مخصوص فضیلت کا حامل قرار دے۔
حالانکہ ربیع الاول وہ عظیم مہینہ ہے جس میں رحمتِ دو جہاں، سیدِ کائنات ﷺ اس عالمِ خاکی پر جلوہ افروز ہوئے۔ بعض غزوات کی فتوحات بھی اسی مہینے میں نصیب ہوئیں جن میں تلواریں نیام میں رہیں اور مسلمانوں کو بغیر خون بہائے کامیابیاں ملیں۔ اور پھر یہی مہینہ ہے جس نے رسول اللہ ﷺ کے وصال کا دل سوز منظر بھی دیکھا، جب دین اپنی تکمیل کو پہنچا اور محسنِ انسانیت ﷺ نے اس جہاں کو خیر باد کہا۔
اسی ماہ نے ہجرتِ نبوی کا وہ عظیم منظر بھی دیکھا جس نے بکھری ہوئی امت کو ایک نئے مرکز، ایک نئے نظام اور ایک نئی اجتماعی شناخت عطا کی۔ اور اسی مہینہ کی ١٢ تاریخ ہی کو جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یوم پیدائش سے مشہور ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ پہونچے، اسی مہینے کی ایک صبح نے مسجدِ قباء کی بنیاد و قیام کو دیکھا جو تقویٰ کی بنیاد پر اسلام کی پہلی اینٹ ثابت ہوئی، اور اسی کے ایام نے مسجدِ نبوی کے قیام کے فیصلے کی روشنی اپنے آغوش میں محفوظ کی۔
یہی وہ مہینہ ہے جس میں خلافتِ صدیقی کی ابتداء ہوئی، جب اللہ تعالیٰ نے حضرت ابوبکر صدیقؓ کے ذریعے امت کو استحکام بخشا اور خلافتِ راشدہ کے ذریعہ سلسلۂ نبوت ختم ہونے کے بعد ایک مثالی نظام اور بہت سے مبارک نفوس اور ان کے ناقابل فراموش کردار کو دنیا میں متعارف کراکر قابل تقلید بنا دیا۔
لیکن جب حضرت عمر کے عہد میں صحابہ کرامؓ کے سامنے سن17ہجری میں نئے اسلامی تقویم (کیلنڈر) کی بنیاد رکھنے کا سوال آیا، اور نبی کریم ﷺ کی یوم ولادت، پیدائش کے مہینہ، بعثت و نزول وحی، ہجرت اور نبی اکرم کے متعلق دیگر اہم ترین واقعات کو اس کیلنڈر کی بنیاد بنانے پر بیشتر صحابہ بشمول کبار صحابہ نے تفصیلی غور و خوض کیا، اس موقعہ پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یوم پیدائش کو اس کی بنیاد بنانے کی تجویز آنے کے باوجود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے آخری حد تک محبت اور ان کے لئے جانفشانی و جانثاری کے اعلی جذبات کے باوجود اسے نا صرف رد کر دیا گیا بلکہ ماہِ ربیع الاول کو تقویمِ اسلامی کی ابتداء کے لیے منتخب نہ کرنے پر ان کا اجماع سامنے آیا۔
اس موقع پر صحابہ کرامؓ کی نگاہیں محض ظاہری محبت و جذبات کی اسیری پر نہیں، بلکہ حکمت و بصیرت کی اس روشنی پر مرکوز تھیں جو انہیں رسول اللہ ﷺ سے ملی تھی۔ انہوں نے واضح کر دیا کہ اسلام کسی مخصوص مہینے کو، خواہ وہ ولادتِ نبوی ہی سے منسوب کیوں نہ ہو، محض جذبات کی بنیاد پر دائمی تقدیس کا درجہ نہیں دیتا۔
یہی وہ لمحہ ہے جو امت کو یہ عظیم سبق دیتا ہے کہ اسلام کی اصل روح اتباع ہے، اختراع نہیں؛ اور اصل عظمت اطاعت میں ہے، تقدیس گھڑنے میں نہیں۔ ربیع الاول کے مناظر یقیناً ہماری تاریخ کے روشن چراغ ہیں، لیکن ان کی روشنی ہمارے عمل اور ایمان کو جلا بخشنے کے لیے ہے، نہ کہ کسی رسمی یا مستقل تقدیس کے عنوان سے ماہ و سال کو نئی بنیاد دینے کے لئے۔
یہی وجہ ہے کہ گویا صحابہ کرامؓ کا اس بات پر اجماع ہوا کہ ربیع الاول کو الگ سے کوئی ایسی حیثیت دینا درست نہیں جو قرآن و حدیث نے نہ دی ہو۔ اور یوں یہ کہنا غلط نہیں کہ نبی کریم ﷺ کی ولادت ہو یا وصال، ہجرت ہو یا خلافت کی بنیاد یہ سب واقعات ہماری تاریخ کے جواہرات ہیں، مگر ان کی اصل عظمت تب ہے جب ہم ان سے دین کی اصل روح یعنی اتباعِ نبوی، اتحادِ امت اور اطاعتِ الٰہی کا پیغام اخذ کریں۔ یہی وہ حکمت ہے جو اس مہینے کی روشنی کو قیامت تک تابندہ رکھے گی۔
zakinoorazeem@gmail.com








