نئی دہلی: آر کے بیورو
دہلی ہائی کورٹ نے 2020 کے شمال مشرقی دہلی فسادات سے متعلق ‘سازش’ کیس میں 9 ملزمان کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی ۔ ان ملزمان میں عمر خالد اور شرجیل امام بھی شامل ہیں۔ ان سبھی پر آئی پی سی، یو اے پی اے اور آرمس ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ یہ تمام ملزمان جنوری-اگست 2020 میں گرفتاری کے بعد سے پانچ سال سے زیادہ عرصے سے جیل میں ہیں۔
یہ جاننا ضروری ہے کہ آخر عدالت کی جانب سے ضمانت مسترد ہونے کی وجوہات کیا ہیں، عدالت نے کس کی سنی اور اس نے فیصلے کے حق میں کیا دلائل دیے جس پر تحفظات کا اظہار کیا جارہا ہے ،اسے جاننے کی کوشش کرتے ہیں
••ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ "سازش کے ہر رکن، خاص طور پر موجودہ اپیل کنندگان کو، سازش کو آگے بڑھانے کے لیے ایک مخصوص کردار تفویض کیا گیا تھا۔” عدالت نے یہ بھی کہا کہ مقدمہ ابھی ابتدائی مراحل میں ہے اور گواہوں پر جرح ہونا باقی ہے، اس لیے گواہوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کے امکان کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
بنچ نے یہ بھی کہا کہ غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (یو اے پی اے) خود ضمانت دینے کے لئے عدالت کی صوابدید کو محدود کرتا ہے۔ سیکشن 43D (5) کے تحت، اگر عدالت کو لگتا ہے کہ ملزم کے خلاف الزامات پہلی نظر میں درست ہیں، تو ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ عدالت نے ہر ملزم کے خلاف ابتدائی شواہد کا تفصیل سے تجزیہ کیا۔
**شرجیل ,عمر خالد پر الزامات
عدالت نے شرجیل امام اور عمر خالد کی جانب سے مبینہ طور پر دی گئی ‘اشتعال انگیز تقاریر’ پر زور دیا۔ عدالت نے کہا کہ سازش میں اپیل کنندگان شرجیل امام اور عمر خالد کا کردار بنیادی طور پر سنگین ہے۔ بنچ نے استغاثہ کے ان الزامات کو قبول کیا کہ انہوں نے جان بوجھ کر عوام کو متحرک کیا۔
اطہر خان، شاداب احمد، عبدالخالد سیفی اور محمد سلیم خان کے خلاف شواہد صرف واٹس ایپ گروپس میں موجودگی پر مبنی ہونے کی دلیل کو بھی مسترد کر دیا گیا۔ عدالت نے کہا کہ یہ تمام ملزمان مبینہ طور پر تشدد بھڑکانے اور پولیس اہلکاروں پر حملہ کرنے کی سازش سے متعلق میٹنگوں میں ملوث تھے۔
**شفا الرحمان اور میران حیدر …
استغاثہ کے مطابق شفا الرحمان اور میران حیدر پر احتجاج کے لیے فنڈز جمع کرنے کا الزام ہے۔ ان پر جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی (AAJMI) کی ایلومنائی ایسوسی ایشن کے دفتر اور نیٹ ورک کا استعمال کرنے کا بھی الزام ہے۔ بنچ نے کہا کہ اس سطح پر فنڈز کے غلط استعمال کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔استغاثہ نے گلفشاں فاطمہ پر الزام لگایا ہے کہ وہ سلیم پور-جعفرآباد میں احتجاجی مقامات کو ہینڈل اور رہنمائی کرتی تھی۔ بنچ نے کہا کہ یہ ضروری نہیں ہے کہ تمام ملزمان جرم کے تمام پہلوؤں میں ملوث ہوں۔ واٹس ایپ گروپس کی تخلیق جیسے حقائق کو تنہائی میں نہیں دیکھا جا سکتا۔
**نتاشا نروال اور دیونگنا کلیتا کے کیس سے موازنہ:درخواست گزاروں نے نتاشا ناروال، دیونگانا کلیتا اور آصف اقبال تنہا کی ضمانت کی بنیاد پر برابری کی درخواست کی لیکن عدالت نے اسے مسترد کر دیا۔ عدالت نے کہا کہ ان اپیل کنندگان کا کردار دیگر شریک ملزمان کے مقابلے میں ابتدائی طور پر سنگین ہے۔ عدالت نے کہا کہ یہ دلیل کہ احتجاج دہشت گردی نہیں ہے، اب مثال کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ سپریم کورٹ نے اس پر پابندی لگا دی ہے۔
**لمبی قید اور مقدمے میں تاخیر
ملزمان نے طویل قید اور سست ٹرائل کو بھی ضمانت کی بنیاد بنایا۔ اس پر ہائی کورٹ نے کہا کہ طویل قید اور مقدمے کی سماعت میں تاخیر کی واحد بنیاد پر ضمانت دینا تمام معاملات میں عالمی طور پر لاگو ہونے والا اصول نہیں ہے۔ عدالت نے کہا کہ مقدمہ سنگین ہے اور مقدمے کی سماعت قدرتی رفتار سے جاری ہے۔ استغاثہ نے کہا کہ 58 گواہوں پر جرح کی جائے گی اور چارج شیٹ 3000 صفحات سے زیادہ لمبی ہے۔آج تک کے ان پٹ کے ساتھ








