11 جولائی سے شروع ہونے والی کانوڑ یاترا سے پہلے گوشت اور مچھلی کی دکانوں کو لے کر سیاست گرم ہو گئی ہے۔ اتر پردیش میں جہاں 10 جولائی سے کنور راستوں پر گوشت کی دکانیں بند کرنے کا اعلان کیا گیا ہے، وہیں اب دہلی حکومت کے وزیر کپل مشرا نے بھی صاف کہہ دیا ہے کہ کانوڑ یاترا کے دوران میٹ کی دکانیں بند رہیں گی۔کپل مشرا کا دعویٰ ہے کہ دہلی میں میٹ کی زیادہ تر دکانیں غیر قانونی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کنانوڑ یاترا کے دوران ان دکانوں کو کھلا رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ حالانکہ دہلی پولس نے ابھی تک کانوڑ یاترا کے روٹ کے بارے میں کوئی نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا ہے، لیکن کانوڑئیے دارالحکومت کے تقریباً ہر علاقے سے گزرتے ہیں، کچھ علاقوں میں زیادہ تعداد میں اور کچھ میں کم۔پورے مہینے ذریعہ معاش متاثر رہے گا!
آج تک کے مطابق اس خبر سے دکانداروں میں کھلبلی مچ گئی۔ نہ تو انہیں ابھی تک کوئی باضابطہ اطلاع موصول ہوئی ہے اور نہ ہی اس سے پہلے کبھی ایسی کوئی ہدایت آئی ہے۔ دہلی کے نظام الدین علاقے میں بڑی تعداد میں گوشت کی دکانیں ہیں جہاں کچا اور پکا ہوا گوشت فروخت ہوتا ہے۔ دکانداروں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت کی طرف سے کوئی ہدایت آئی تو وہ دکانیں بند کر دیں گے، لیکن اس سے ان روزی روٹی پر پورا ایک ماہ اثر پڑے گا۔غازی پور میٹ مارکیٹ بھی بند رہ سکتی ہے!
دہلی-اتر پردیش سرحد پر واقع غازی پور میٹ مارکیٹ کو این سی آر کا سب سے بڑا بازار مانا جاتا ہے۔ یہاں سے نہ صرف دہلی بلکہ نوئیڈا، غازی آباد، فرید آباد جیسے شہروں کو بھی میٹ سپلائی کیا جاتا ہے۔ اس قومی شاہراہ پر کانوڑ تیاریاں زوروں پر ہیں۔ اس راستے سے ہزاروں کانوڑ گزرتے ہیں ااس شاہراہ سے متصل غازی ہورمیٹ منڈی ہے۔میٹ کی دکانیں غیر قانونی نہیں، میونسپل کارپوریشن کے تحت آتی ہیں!اس ممکنہ اقدام سے دکاندار ناراض ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہماری دکانیں غیر قانونی نہیں بلکہ میونسپل کارپوریشن کے تحت آتی ہیں۔ پھر بھی حکومت کی جانب سے انہیں کسی بھی وقت بند کرنے کا امکان ہے۔ تاحال کوئی تحریری حکم نامہ موصول نہیں ہوا لیکن خوف بدستور موجود ہے۔ آج تک کے ان پٹ کے ساتھ








