ممبئی ٹرین دھماکے کے فیصلے کی طرح، کیا مہاراشٹر حکومت مالیگاؤں دھماکہ کیس کے فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کرنے میں جلدی کرے گی؟ یہ سوال آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) نے پوچھا ہے۔ مالیگاؤں دھماکہ کیس کے فیصلے کے فوراً بعد اس فیصلے کو لے کر سیاسی ہلچل تیز ہوگئی۔ اس فیصلے کے بعد جہاں ایک طرف بی جے پی نے اسے ‘ہندو دہشت گردی’ کے جھوٹے بیانیے کو منہدم قرار دیا ہے، وہیں دوسری طرف اے آئی ایم آئی ایم نے مہاراشٹر حکومت سے اس فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ کانگریس اور دیگر اپوزیشن پارٹیوں نے بھی اس معاملے پر اپنے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔
این آئی اے کی خصوصی عدالت نے 2008 کے مالیگاؤں بم دھماکہ کیس میں پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام سات ملزمین کو بری کر دیا ہے۔ 11 جولائی 2008 کو مہاراشٹر کے مالیگاؤں میں بم دھماکے میں چھ افراد ہلاک اور 100 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔ اس معاملے میں، پرگیہ ٹھاکر، کرنل شری کانت پروہت اور دیگر کے خلاف غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ یعنی UAPA اور دھماکہ خیز مواد ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ قومی تحقیقاتی ایجنسی یعنی این آئی اے نے معاملے کی جانچ کی۔ لیکن خصوصی عدالت نے 31 جولائی 2025 کو تمام ملزمان کو عدم ثبوت کی بنا پر بری کر دیا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ این آئی اے ٹھوس ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہی۔
اے آئی ایم آئی ایم کے صدر اسد الدین اویسی نے اس فیصلے پر سخت اعتراض کیا ہے اور مہاراشٹر حکومت سے بریت کو فوری طور پر ہائی کورٹ میں چیلنج کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اویسی نے کہا، ‘کیا نریندر مودی اور دیویندر فڑنویس حکومت اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرے گی؟ یہ ایک سنگین معاملہ ہے، اور حکومت کو فوری ایکشن لینا چاہیے۔’
**مہاراشٹر حکومت کا موقف
مہاراشٹر حکومت نے ابھی تک اس فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کرنے کے بارے میں کوئی واضح بیان نہیں دیا ہے۔ تاہم 2006 کے ممبئی لوکل ٹرین دھماکوں کے معاملے میں حکومت نے ممبئی ہائی کورٹ کے بری کیے جانے کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا، جس پر سپریم کورٹ نے عارضی روک لگا دی تھی۔ نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار نے اس وقت کہا تھا کہ اس معاملے میں کچھ بے قصور لوگ بھی پھنس گئے ہیں اور مجرموں کو سزا ملنی چاہیے۔
اے آئی ایم آئی ایم کے مطالبے کے بعد اب سبھی کی نظریں مہاراشٹر حکومت پر لگی ہوئی ہیں کہ آیا وہ اس فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کرے گی یا اس معاملے کی مزید گہرائی سے تحقیقات کرنے کا فیصلہ کرے گی۔
**فیصلے کے سیاسی اثرات ؟
مالیگاؤں دھماکہ کیس میں یہ فیصلہ مہاراشٹر کی سیاست میں نیا موڑ لے سکتا ہے۔ خاص طور پر مسلم اکثریتی علاقوں میں اس فیصلے کو لے کر ناراضگی دیکھی جارہی ہے۔ اس کے علاوہ یہ معاملہ ایک بار پھر ‘ہندو دہشت گردی’ اور ‘زعفرانی دہشت گردی کے بیانیے’ کے ارد گرد بحث کو جنم دے رہا ہے۔ جہاں بی جے پی اسے اپنی نظریاتی جیت کے طور پر پیش کررہی ہے وہیں اپوزیشن اسے این آئی اے کی تحقیقات میں خامیوں کے طور پر دیکھ رہی ہے۔
اس فیصلے کے بعد اب سب کی نظریں سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ پر لگی ہوئی ہیں۔ کیا مہاراشٹر حکومت اس معاملے کو ہائی کورٹ لے جائے گی؟ کیا این آئی اے اس معاملے میں نئی تحقیقات شروع کرے گی؟ ان سوالات کے جوابات ابھی تک نہیں ملے۔ لیکن یہ طے ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ معاملہ مزید سیاسی رنگ لے گا۔








