اتر پردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے منگل کو سڑکوں پر نماز پڑھنے پر پابندی کے اپنی حکومت کے فیصلے کا دفاع کیا۔ انہوں نے پریاگ راج میں مہا کمبھ کو بھی مذہبی نظم و ضبط اور منظم طرز عمل کی بہترین مثال قرار دیا۔ یوگی نے کہا، ‘سڑکیں چلنے کے لیے ہیں اور جو لوگ یہ کہہ رہے ہیں، انہیں ہندوؤں سے نظم و ضبط سیکھنا چاہیے۔ 66 کروڑ لوگ پریاگ راج آئے تھے، کہیں بھی لوٹ مار کا واقعہ نہیں ہوا۔
ایک انٹرویو کےدوران انہوں ایک سوال کے جواب میں کہا ہم مذہبی پہلو کو ایک محدود دائرے تک محدود رکھتے ہیں۔ ہم سیاست کو بھی مٹھی بھر لوگوں تک محدود رکھتے ہیں۔ یہ تمام مسائل کی جڑ ہے۔ سیاست اگر خود غرضی کے لیے ہو گی تو اس سے مسائل پیدا ہوں گے۔ سیاست فلاح کے لیے ہے تو حل فراہم کرے گی۔ یہ بھی دھرم ہے۔ مذہب جب فلاح و بہبود کے لیے ہو گا تو مسائل پیدا کرے نہیں گا۔ جب کوئی شخص اپنے آپ کو فلاح کے لیے وقف کر دے گا تو وہ ترقی کی نئی راہیں تجویز کرے گا۔ ہندوستانی روایت میں مذہب کو خود غرضی سے نہیں جوڑا گیا ہے۔ دونوں کا مقصد خدمت ہے۔یوگی آدتیہ ناتھ نے واضح طور پر بھارتیہ جنتا پارٹی کے مرکزی قائدین کے ساتھ تصادم کی باتوں کو مسترد کردیا ہے اور پوچھا ہے کہ کیا وہ مرکزی قائدین سے اختلافات کے باوجود یہاں بیٹھے رہ سکتے ہیں۔
وقف بل کی مخالفت کا جواب دیتے ہوئے اتر پردیش کے سی ایم یوگی نے کہا کہ یقیناً ہر اچھے کام کی مخالفت ہوتی ہے۔ اس بل سے ملک کے مسلمانوں کو بھی فائدہ ہوگا۔ وقف بل کو لے کر ملک بھر میں کئی مقامات پر احتجاج کیا جا رہا ہے۔ گزشتہ روز نماز عید کے موقع پر لوگوں نے ہاتھوں پر سیاہ پٹی باندھ کر نماز عید ادا کی۔ اسے وقف بل کے خلاف ایک علامتی احتجاج کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس پر بی جے پی لیڈروں نے سیاست کی ہے۔
یہ وہ ریاست تھی جسے آٹھ سال پہلے شناخت کے بحران کا سامنا تھا۔ آج عید بہت پر امن طریقے سے منائی جا رہی ہے۔ 2017 سے پہلے جب بھی کوئی تہوار یا جشن آتا تو لوگ خوفزدہ ہونے لگتے۔ لیکن ان خدشات کو روکنا چاہیے۔