بنگلہ دیش کی عبوری یونس سرکار نے متنازعہ ہندوستانی نژاد اسلامی مبلغ ذاکر نائیک کو ملک میں داخلے کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ منگل کو وزارت داخلہ میں منعقدہ امن و امان کی کور کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا۔ مقامی اخبار پرتھم آلو نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ملاقات میں ذاکر نائیک کے ممکنہ دورے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ حکام نے کہا کہ اگر ذاکر نائیک بنگلہ دیش آتے ہیں تو ایک بڑا ہجوم جمع ہو سکتا ہے۔ اس ہجوم کو کنٹرول کرنے کے لیے بڑی تعداد میں سکیورٹی اہلکاروں کی ضرورت ہوگی، لیکن اس وقت ایسی تعیناتی ممکن نہیں ہے۔’ اس کا مطلب ہے کہ بنگلہ دیش صرف بھیڑ کی وجہ سے نہیں چاہتا کہ ذاکر نائک یہاں آئیں اس میں شدت پسندی یا ان پر عائد الزامات وجہ نہیں ہیں ۔
قابل ذکر ہے کہ اس سے قبل اسپارک ایونٹ مینجمنٹ نامی نجی کمپنی نے اپنے فیس بک پیج پر اعلان کیا تھا کہ وہ نومبر کے آخر میں ڈاکٹر ذاکر نائیک کو بنگلہ دیش دعوت دی ے کا ارادہ رکھتی ہے ۔ کمپنی نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ تقریب بنگلہ دیش کی حکومت کی اجازت اور متعلقہ حکام کے تعاون سے منعقد کی جائے گی۔ تاہم اب اس حکومتی فیصلے کے بعد وہ پروگرام بھی ابہام کا شکار ہو گیا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ‘ہم سمجھتے ہیں کہ بھارت سمیت کسی بھی ملک کو کسی دوسرے ملک کے ملزم یا مفرور افراد کو پناہ نہیں دینی چاہیے۔’ تاہم، یہ ایک طنز تھا، کیونکہ شیخ حسینہ نے ہندوستان میں پناہ لے رکھی ہے۔ذاکر نائیک 2016 سے ہندوستان سے مفرور ہیں ۔ نائک کو منی لانڈرنگ اور اشتعال انگیز تقاریر سے متعلق کئی سنگین تحقیقات کا سامنا ہے۔ وہ اس وقت ملائیشیا میں مقیم ہیں، اور کئی ممالک میں ان کی عوامی نمائش پر پابندی عائد ہے









