نیو یارک :امریکہ کے سب سے اہم شہر نیویارک میں نئی تاریخ رقم ہونے جارہی ہے جب نئے منتخب جواں سال میئر ظہران ممدانی آدھی رات کو اسلام کی کتاب مقدس قرآن مجید پر اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔ یہ پہلا موقع ہوگا جب نیویارک شہر کا کوئی میئر اسلام کی سب سے مقدس کتاب پر اپنے عہدے کا حلف اٹھائے گا، اور یہ شہر کے لیے بہت سے تاریخی واقعات میں سے ایک ہوگا جس کو بطور خاص یاد رکھا جائے گا۔
جب 34 سالہ ڈیموکریٹ سٹی ہال کے نیچے ایک طویل بند سب وے اسٹیشن پر حلف اٹھائیں گے، تو وہ اس عہدے پر فائز ہونے والے پہلے مسلمان، پہلے جنوبی ایشیائی اور پہلے افریقی نژاد شخص ہوں گے۔ممدانی کے زیادہ تر پیشروؤں نے بائبل پر حلف اٹھایا تھا، حالانکہ وفاقی، ریاست اور شہر کے آئین کو برقرار رکھنے کے حلف کے لیے کسی مذہبی متن کے استعمال کی ضرورت نہیں ہے۔
ایک اسکالر کے مطابق جس نے ممدانی کی اہلیہ، راما دواجی کی، کتابوں میں سے ایک کا انتخاب کرنے میں مدد کی، یہ سنگ میل ہے اور ساتھ ہی وہ تاریخی قرآن بھی جو وہ تقریب کے لیے استعمال کریں گے، ملک کے سب سے زیادہ آبادی والے شہر کے دیرینہ اور متحرک مسلمان باشندوں کی عکاسی کرتے ہیں۔ممدانی نے صدر ٹرمپ کی شدید مخالفت کے باوجود گزشتہ چار نومبر کو بہت بڑے فرق کے ساتھ جیت درج کی ہے ،ممدانی کی خاص بات ان کی جراث،صاف گوئی اور اپنے مسلمان ہونے پر فخر کا اظہار ہے ،وہ راسخ العقیدہ مسلمان کی طرح بات کرتے ہیں اور کسی جھجھک کا مظاہرہ نہیں کرتے لیکن اسی کے ساتھ یہ بات بھی بہت اہم ہے کہ نیویارک شہر نے اسلاموفوبیا کے بدترین دور میں ایک مسلم مئیر کو میرٹ کی بنیاد پر منتخب کرنے میں شہری مسائل کو فوقیت دی ،ممدانی کا مسلمان ہونا ان کے انتخاب میں آڑے نہیں آیا
دریں اثناء سینئر مشیر زارا رحیم نے وضاحت کی کہ یہ ایک انتہائی علامتی انتخاب ہے، جیسا کہ ہم ایک مسلمان میئر کو قرآن کا استعمال کرتے ہوئے حلف اٹھاتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔








