ایران میں حالات بدتر ہوتے جا رہے ہیں۔ امریکی مداخلت کسی بھی وقت ممکن ہے۔ رضا پہلوی، جو خود کو ایران کا ولی عہد کہتا ہے، نے مظاہرین پر زور دیا ہے کہ وہ ہفتہ (10 جنوری) اور اتوار (11 جنوری) کو شام 6 بجے سڑکوں پر نکل آئیں۔ اور "شہر کے مراکز پر قبضہ کرنے کی تیاری کریں۔” اس نے کہا کہ اب ان کا مقصد صرف سڑکوں پر نکلنا نہیں ہے بلکہ شہر کے مراکز کو "فتح اور دفاع” کرنا ہے۔ اس نے یہ بھی کہا کہ وہ جلد اپنے آبائی ملک ایران واپس جانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ رضا پہلوی نے امریکی صدر ٹرمپ سے ایران کے معاملات میں براہ راست مداخلت کی اپیل کی ہے۔ اس کے والد، شاہ رضا پہلوی نے 1979 تک ایران پر حکومت کی۔ تاہم، 1979 میں اسلامی انقلاب کے بعد، پہلوی خاندان کو بھاگ کر امریکہ جانا پڑا، جہاں انہیں پناہ ملی ہے۔ اسلامی انقلاب کے بعد سے آٹھ صدور امریکہ کا دورہ کر چکے ہیں۔ ایران کے بارے میں ہر صدر کی پالیسی ایک جیسی رہی ہے۔ امریکہ چاہتا ہے کہ شاہ خاندان ایران میں دوبارہ اقتدار میں آئے۔
امریکہ میں قائم انسانی حقوق کے کارکنوں کی نیوز ایجنسی کے مطابق ملک بھر میں ہونے والے مظاہروں میں ہلاکتوں کی تعداد کم از کم 62 ہو گئی ہے۔ مزید یہ کہ مظاہروں کے دوران کم از کم 2,300 گرفتاریاں کی گئی ہیں۔
ایران کے بارے میں ٹرمپ کا بیان: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کے روز کہا کہ وہ ایران کی صورت حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور مظاہرین کے تحفظ کی خواہش رکھتے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مظاہرین کو مارا گیا تو امریکہ مداخلت کرے گا اور ایران کو شدید دھچکا دے گا۔ ٹرمپ نے کہا، "ایران بڑی مصیبت میں ہے، میرا خیال ہے کہ لوگ کچھ ایسے شہروں پر قبضہ کر رہے ہیں جن کے بارے میں کسی نے سوچا بھی نہیں تھا۔ ہم صورت حال کو بہت قریب سے مانیٹر کر رہے ہیں۔ میں نے پہلے بھی واضح طور پر کہا ہے کہ اگر وہ پہلے کی طرح لوگوں کو مارنا شروع کر دیتے ہیں تو ہم مداخلت کریں گے۔ ہم انہیں ایک بھاری دھچکا لگائیں گے، اور اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ زمین پر فوجی کارروائی ہو، لیکن ہمارا مطلب یہ ہے کہ ایسا دوبارہ ہونے سے روکا جائے۔”
روبیو کا فوجی کارروائی کا انتباہ
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ٹویٹر پر لکھا کہ ’’امریکہ ایران کے بہادر عوام کی حمایت کرتا ہے‘‘۔ جمعے کے روز، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی قیادت "بڑی مصیبت” میں ہے اور پرامن مظاہرین کو مارنے کی صورت میں فوجی کارروائی کی دھمکی دی ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ کا بیان
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ہفتے کے روز کہا کہ پابندیوں اور اقتصادی مشکلات کے باوجود ملک میں حالات مستحکم ہیں۔ یہ اطلاع ایران انٹرنیشنل نے دی ہے۔ عراقچی نے کہا، "ایران کی مجموعی صورت حال اچھی ہے، اگرچہ پابندیوں اور اقتصادی مشکلات کی وجہ سے کچھ مسائل ہیں۔” ایران میں کئی اسکولوں اور یونیورسٹیوں نے ہفتے کے روز آن لائن کلاسز کا انعقاد کیا، جو کہ ایران میں ہفتے کا آغاز ہے۔ جمعہ کو وہاں عام تعطیل ہوتی ہے۔
خامنہ ای کا پرتشدد مظاہروں پر سخت موقف ۔ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے مظاہرین کے خلاف سخت رویہ اختیار کرتے ہوئے سخت ردعمل کا عندیہ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مظاہرین امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خوش کرنے کے لیے اپنے ہی ملک کی املاک کو تباہ کر رہے ہیں۔







