فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس نے قطر پر اسرائیل کے کیے گئے غیر معمولی حملے کے بعد کہا ہے اسرائیل کا یہ حملہ صرف حماس کے مذاکرات کاروں پر نہیں تھا جو غزہ میں جنگ بندی کے لیے مسلسل مصروف تھے اور اس روز بھی اسی لیے وہاں جمع تھے۔ بلکہ یہ پورے مذاکراتی عمل پر قاتلانہ حملہ تھا اور اس حملے میں امریکہ بھی ملوث ہے۔
یہ بات حماس کے عہدیدار فوضی برہوم نے جمعرات کے روز ٹی وی پر دکھائی جانے والی ایک پریس کانفرنس میں کہی ہے۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ امریکی انتظامیہ قطر پر کیے گئے حملے کے جرم میں شریک تھی۔برہوم کے مطابق مذاکرات کاروں کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ امریکی صدر ٹرمپ کی جنگ بندی کے لیے نئی تجویز پر باہمی مشاورت کے لیے جمع تھے۔
حماس کا یہ بھی کہنا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اور ان کی حکومت بین الاقوامی قانون و اقدار کی خلاف ورزی کر رہی ہے۔ قطر پر اسرائیلی حملے بھی بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی پر مبنی ہیں اور یہ حماس کے وفد کو قتل کرنے کے لیے تھے۔
یاد رہے اسرائیل کی غزہ جنگ کو رکوانے کے لیے قطر سب سے اہم ترین ثالث ملک ہے۔ جس پر اسرائیل نے منگل کی شام سے ذرا پہلے اسی طرح بے دھڑک ہو کر حملہ کر دیا جس طرح لبنان ، ایران اور شام پر حملے کیے جاتے ہیں۔
اگرچہ قطر نہ صرف یہ کہ غزہ سے اسرائیلی قیدیوں کو چھڑوانے اور جنگ بندی کے لیے پچھلے مسلسل دو برسوں سے اپنی کوششیں اور خدمات جاری رکھے ہوئے ہے۔ مزید یہ کہ قطر نہ صرف امریکہ کا اہم خلیجی اتحادی ہے بلکہ علاقے میں امریکی افواج کا سب سے بڑا میزبان بھی ہے۔قطر کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے عرب اور اسلامی ممالک کی کانفرنس کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ جس میں سعودی عرب اور پاکستان سے بھی اعلیٰ قائدین کی شرکت متوقع ہے









