نئی دہلی:اے بی پی نیوز کے ایک پروگرام پر ایک نیا تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعووں میں الزام لگایا گیا ہے کہ شو کے دوران ایک بی جے پی کارکن سامعین کی گیلری میں بیٹھی تھی اور کانگریس پارٹی سے متعلق سوالات پوچھ رہی تھی –
ان دعوؤں کے مطابق جب پروگرام کے دوران یہ معاملہ سامنے آیا تو اینکر چترا ترپاٹھی کا رویہ بھی جانچ پڑتال کی زد میں آیا اور ان پر مبینہ طور پر غیر مہذب سلوک کا الزام لگایا گیا۔تاہم، اس معاملے پر اے بی پی نیوز یا چترا ترپاٹھی کی طرف سے ابھی تک کوئی سرکاری ردعمل جاری نہیں کیا گیا ہے۔ مزید برآں، وائرل دعووں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کی گئی ہے۔بہر حال، یہ تنازعہ ایک بار پھر میڈیا کی غیر جانبداری اور پروگراموں میں ’’اسٹیج مینجمنٹ‘‘ کے بارے میں بحث کو ہوا دے رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر سامعین یا سوالات پہلے سے طے شدہ ہوں تو اس سے صحافت کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔
فی الحال کچھ لوگ اسے سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی یک طرفہ داستان قرار دے رہے ہیں، جس کی مکمل حقیقت سامنے آنا باقی ہے۔
لوگوں کا کہناُہے کہ یہ کام برسوں سے ہورہا ہے اور سامنے بھی اتا رہا ہے ڈاکٹر اجے اپادھیائے کا کہنا ہے کہ “آج بھی اپوزیشن سے اسپانسرڈ سوالات پوچھے جا رہے ہیں… نوئیڈا ڈسٹرکٹ سوشل میڈیا کوآرڈینیٹر رچنا جین اور ان کی ٹیم کو ماسک پہنے ہوئے عام لوگوں کے طور پر پیش کیا جا رہا تھا اور کانگریس سے سوالات پوچھنے کو کہا جا رہا تھا۔
حیران کن بات یہ تھی کہ بے نقاب ہونے کے بعد بھی اینکر لیڈی پورے عزم کے ساتھ ایسے لوگوں کا دفاع کرتی رہی… اگر کوئی اخلاقیات رہ گئی ہے تو میڈم آپ اس شرمناک کھیل پر ملک اور صحافی برادری سے معافی مانگیں۔”







