اعظم گڑھ 13 ستمبر: شبلی نیشنل کالج کے شعبہ تاریخ میں “بھاشا اور زبان” کے موضوع پر ایک علمی نشست منعقد ہوئی، جس میں جناب راجیو رنجن نے طلباء و طالبات سے خطاب کیا۔ آپ کا تعلق اعظم گڑھ سے ہے اور آپ ہریانہ پولیس میں پبلک ریلیشن آفیسر کے عہدے پر فائز ہیں۔
گزشتہ 25 برسوں سے آپ اعظم گڑھ میں ہندی اُردو کتاب میلہ منعقد کراتے آ رہے ہیں، جس میں ہر طبقہ فکر کے لوگ شریک ہوتے ہیں اور اس سے علمی و ادبی فیض حاصل کرتے ہیں۔
اپنے خطاب میں انہوں نے زبان کی تاریخی اہمیت پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تاریخی دستاویزات، ثقافتی تسلسل اور سماجی و سیاسی تبدیلیوں پر زبان کے گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق سیاسی، ثقافتی اور معاشی واقعات زبان کی تشکیل اور اس کے ارتقاء پر براہِ راست اثر انداز ہوتے ہیں۔ اسی طرح جب مختلف قومیں اور ثقافتیں آپس میں ملتی ہیں تو ایک نئی زبان جنم لیتی ہے، جس کی روشن مثال اردو زبان ہے۔انہوں نے کہا کہ زبان کے مطالعہ سے تاریخ کے مختلف ادوار کو بخوبی سمجھا جا سکتا ہے۔ اس تناظر میں انہوں نے اُردو اور ہندی دونوں زبانوں کی اہمیت کو اُجاگر کیا اور ان کے فوائد بیان کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ زبان کا کوئی مذہب نہیں ہوتا، اس لیے ہر زبان کو سیکھنا اور پڑھنا چاہئے۔
پروگرام کی صدارت شعبہ تاریخ کے صدر پروفیسر علاءالدین خان نے کی۔ انہوں نے اپنی صدارتی تقریر میں کہا کہ زبان اور تاریخ کا گہرا تعلق ہے۔ زبان کسی قوم کی تاریخ، تہذیب اور سماجی و سیاسی ارتقاء کی عکاسی کرتی ہے جبکہ تاریخ زبان کی تشکیل اور اس کے ارتقاء میں معاون ہوتی ہے۔ ان کے مطابق تاریخ کی بدولت زبانوں کی اصل، وسعت اور دیگر زبانوں سے تعلق واضح ہوتا ہے۔
انہوں نے طلباء و طالبات کو نصیحت کی کہ وہ مختلف زبانیں سیکھیں، کیونکہ یہ نہ صرف ان کی معاشی ترقی کا باعث بنے گا بلکہ انہیں اپنی اور دنیا کی تاریخ و ثقافت کو سمجھنے میں بھی مدد دے گا۔پروگرام کی نظامت ڈاکٹر شہریار نے کی، جبکہ مہمان کا تعارف ڈاکٹر تبریز عالم نے پیش کیا اور ڈاکٹر سدھارتھ سنگھ نے شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر شعبہ تاریخ کے طلباء و طالبات بڑی تعداد میں موجود رہے۔











