نئی دہلی : (ایجنسی)
دہلی ہائی کورٹ نے یوپی پولیس کو پھٹکار لگائی ہے۔ یوپی پولیس پر الزام ہے کہ انہوں نے ایک شخص کے والد اور بھائی کو گرفتار کرلیا ہے کیونکہ اس نے دہلی پولیس کو بتائے بغیر اپنے خاندان کی مرضی کے خلاف ایک خاتون سے شادی کرلی۔ جسٹس مکتا گپتا نے کہا کہ یہاں دہلی میں اس کی اجازت نہیں دی جائے گی، آپ یہاں غیر قانونی کام نہیں کر سکتے۔
مکتا گپتا نے جوڑے کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک قانون ہے کہ دہلی پولیس کے دائرہ اختیار میں آنےوالے لوگوںکو یوپی پولیس اسے اطلاع دئےبغیر گرفتار نہیں کرسکتی ہے۔ انہوں نے ساتھ ہی متعلقہ اہلکاروں کو نوٹس بھی جاری کیا تھا۔ کورٹ نے کہا تھا کہ بدقسمتی ہے کہ حقائق کا پتہ لگائے بغیر اور یہ معلوم کئے بغیر کہ فریق بالع ہے یا نابالغ،اترپردیش پولیس نےگرفتاریاں کیں۔
اس جوڑے نےکورٹ میں بتایا تھا کہ انہوں نے پریوار کی خواہش کے خلاف بغیر کسی دباؤ میں جولائی میں اپنی مرضی سےشادی کی تھی۔ لیکن اب انہیں مسلسل دھمکیاں مل رہی ہیں۔ لڑکےکے والد اور بھائی کو اترپردیش پولیس ساتھ لے گئی تھی اورایک مہینے سے ان کا کچھ پتہ نہیں ہے ۔
دہلی پولیس نے عدالت کو بتایا کہ لڑکے کے خاندان والوں کو لڑکی کی ماں کی شکایت پر اتر پردیش پولیس نے 8 ستمبر کو گرفتار کیا تھا۔








