لکھنؤ: (ایجنسی)
سیاسی رہنماؤں کی بیان بازی پر اکثر تنازعات جنم لیتے ہیں۔ بعض اوقات اس قسم کا تنازعبڑی پریشانی کا باعث بنتا ہے۔ یوپی میں آئندہ کچھ مہینوںبعد اسمبلی انتخابات ہونے ہیں ۔ ایسے میں لیڈروں کی بیان بازی تیز ہونے لگی ہے۔ بی جے پی یووا مورچہ کے ریاستی صدر پرنشودت دویدی نے ایک میٹنگ کے دوران کہا کہ’ ’ 4 بیویوں اور 40 بچوں والے آپ کا سب کچھ قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔‘‘
انہوں نے کہا کہ یوپی میں تمام ایسی طاقتیں ہیں ، جو ریاست کو طالبان بنانا چاہتی ہیں۔ وہ اترپردیش کی آبادی میں رشوت خور کرنا چاہتی ہیں ۔ وہ چاہتی ہیں اور ان کا خواب ہے کہ تم خوب پیسہ کماؤ جب ہماری آبادی تم سے زیادہ ہوگی تو تمہاری بیٹی اور مکان پر ہم قبضہ کرکےراج کریں گے۔
ان کا یہ بیان اوریا ضلع کی ورکنگ کمیٹی یوتھ ڈائیلاگ پروگرام میں آیا۔ انہوں نے کہا کہ میں کہنا چاہتا ہوں کہ ان لوگوں اور ہمارے درمیان ایک شخص کھڑا ہے تو یوگی آدتیہ ناتھ تلوار لے کر کھڑے ہیں۔ وہ ایسا نہیں ہونے دیں گے۔ اس بیان پر ہنگامہ شروع ہوگیا۔ کئی لوگوں نے اسے ذات پات کے نام پر تصادم پیدا کرنے کی کوشش قرار دیا، جبکہ کئی لوگوں کا کہنا تھا کہ اس سے سستی شہرت ملے گی۔
اس سے قبل گزشتہ اسمبلی انتخابات 2017 کے دوران بی جے پی کے سینئر لیڈر ساکشی مہاراج نے بھی ایسا ہی بیان دیا تھا۔ اس وقت ان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ حالانکہ بیان بازی اور الزامات اور جوابی الزامات جیسے واقعات آئے دن ہو رہے ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ یہ سب پارٹیوں میں ہو رہا ہے اور تمام پارٹیوں کے لیڈر دوسری پارٹیوں کے لیڈروں کے بیانات کو قابل اعتراض قرار دیتے رہتے ہیں۔







