دموہ ؍ بھوپال : (ایجنسی)
مدھیہ پردیش کے دموہ ضلع کے ایک گاؤں میں کم از کم چھ نابالغ لڑکیوں کو ایک روایت کے لیے برہنہ گھمایاگیا۔ خشک سالی والے علاقے میں بارش کے بھگوان کو خوش کرنے کے لیے ایسا کیا گیا ۔ یہ واقعہ 5 ستمبر کو بندیل کھنڈ علاقے کے بنیا گاؤں میں پیش آیا۔ ’پولیس واقعہ کی جانچ کررہی ہے ۔ اگر لڑکیوں کو برہنہ گھمانے کے لیے مجبور کیا گیا تھا تو کارروائی کی جائے گی۔‘
پی ٹی آئی نے دموہ کے ایس پی ڈی آرتینیوار کے حوالے سے بتا کہ لڑکیوں کو بارش کے بھگوان کو خوش کرنے کے لیے برہنہ گھمایا گیا ،کیونکہ مقامی لوگوں کا عقیدہ ہے کہ ایسا کرنے سے بارش ہوسکتی ہے ۔
رواج کے مطابق نابالغ لڑکیاں ننگی ہو کر اپنے کندھے پر لکڑی کاڈنڈا لے کر چلتی ہے، جس پر مینڈک بندھے ہوتے ہیں، کلکٹر چیتنیا نے کہاکہ ان لڑکیوں کے ساتھ خواتین بھجن گاتے ہوئے چلتی ہیں ۔ یہ خواتین گاؤں والوں سے اناج جمع کرتی ہیں اور مقامی مندر میں بھنڈار کے لیے کھانا پکاتی ہیں۔
کلکٹر نے کہا کہ لڑکیوں کا پریوار اس رواج میں شامل تھا اور ایسے توہم پرست رسم ورواج کے بارے میں جانکاری دی جائے گی۔ پی ٹی آئی کے مطابق کلکٹر کا کہنا ہے کہ گاؤں والوں میں سے کسی نے بھی رواج کے خلاف شکایت نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ ایسے معاملے میں انتظامیہ صرف گاؤں والوں کو ایسے توہم پرستی کے خرافات کے بارے میں بیدا ر کرسکتی ہے اور انہیں سمجھا سکتی ہے کہ اس سے مطلوبہ نتائج نہیں ملتے ہیں۔
نیشنل کمیشن فار پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس (این سی پی سی آر) نے دموہ کلکٹر سے کہا ہے کہ وہ اس معاملے میں قانونی کارروائی کرے۔
خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے مطابق این سی پی سی آر نے کلکٹر کو بھیجے ایک خط میں لکھا :’ مقامی میڈیا میں شائع ایک خبر کے مطابق مدھیہ پردیش کے دموہ میں ایک ’ غیر انسانی‘ حرکت ہوئی ہے ۔ مبینہ طور سے نابالغ لڑکیوں کو ضلع کے ایک مقام پر برہنہ گھماتے دیکھا گیا۔ آدیواسی برادری سے تعلق رکھنے والی یہ لڑکیاں پڑوس کے مندر پہنچیں اور دیوی کی پراتھنا کی۔
کمیشن نے دموہ ضلع انتظامیہ سے رپورٹ طلب کی ہے ۔ خط میں کہا گیا ہے کہ اس خط ملنے کے دس دنوں میںیہ دستاویز بھیجنا یقینی بنائے۔ معاملے میں شامل نابالغ لڑکیوں کی برتھ سرٹیفکیٹ ، معاملے کی تفصیلی جانچ رپورٹ اور دیگر ضروری دستاویزات۔ اس پر دموہ کلکٹر ایس کرشن چیتنیا نے کہاکہ مقامی انتظامیہ این سی پی سی آر کو ایک رپورٹ سونپے گی۔








