دہلی ہائی کورٹ نے دہلی پولیس کو شراب پالیسی کیس میں جسٹس سورن کانتا شرما کے سامنے اروند کیجریوال کے دلائل کے غیر مجاز ویڈیوز کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم سے ہٹانے کا حکم دیا ہے۔
بار اینڈ بنچ bar &bechکی ویب سائٹ کے مطابق ہائی کورٹ کا ماننا ہے کہ عدالتی کارروائی کی غیر قانونی ریکارڈنگ کی اجازت نہیں ہے۔ دہلی ہائی کورٹ کے آن لائن سماعت کے قوانین عدالتی کارروائیوں کی ریکارڈنگ اور اشاعت پر واضح طور پر پابندی لگاتے ہیں۔ دریں اثنا، کیجریوال نے ہائی کورٹ میں ایک نیا حلف نامہ داخل کیا ہے، جس میں مرکزی حکومت کے پینل میں جسٹس سوارن کانتا شرما کے بیٹے اور بیٹی کے وکیل کی حیثیت سے سوال کیا گیا ہے۔ کیجریوال نے کہا کہ جج کا بیٹا اور بیٹی سرکاری وکیل اور مرکزی حکومت کے سالیسٹر جنرل تشار مہتا کے ماتحت کام کرتے ہیں۔
ہائی کورٹ کے اہلکار نے مزید کہا کہ ان تمام لوگوں کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے جنہوں نے تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ایسی ویڈیوز آن لائن ریکارڈ کیں اور پوسٹ کیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ہائی کورٹ نے پہلے بھی ایسے واقعات میں کارروائی کی ہے، اور کیجریوال کا ویڈیو ان میں سے ایک ہے جس کا عدالت نے نوٹس لیا ہے۔
عام آدمی پارٹی (اے اے پی) کے قومی کنوینر اور دہلی کے سابق وزیر اعلی اروند کیجریوال 13 اپریل 2026 کو دہلی ہائی کورٹ کے سامنے ذاتی طور پر پیش ہوئے، تاکہ شراب پالیسی کیس سے دستبرداری کی درخواست پر جسٹس سوارن کانتا شرما کے سامنے اپنے دلائل پیش کریں۔ اس نے ایک گھنٹے سے زیادہ بحث کی۔ سماعت کے فوراً بعد کیجریوال کے دلائل کے ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئے۔ کیجریوال کے بعد سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت سے خطاب کیا اور کیجریوال کی واپسی کی درخواست کی مخالفت کی۔
بار اینڈ بنچ کے مطابق ہائی کورٹ کے ایک اہلکار نے واضح کیا کہ تمام پلیٹ فارمز پر غیر مجاز ویڈیو ریکارڈنگ اور نشریات کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے۔ یہ قدم عدالتی کارروائی کے وقار اور قواعد کے تحفظ کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
•••کیجریوال کا نیا باؤنسر: حلف نامہ میں پوچھا جج صاحبہ کا بیٹا مرکزی حکومت کے پینل میں کیوں؟
دریں اثنا دہلی کے سابق وزیر اعلی اروند کیجریوال نے دہلی ہائی کورٹ میں ایک نیا حلف نامہ داخل کر کے جسٹس سوارن کانتا شرما کو ان کی درخواستوں کی سماعت سے باز رکھنے کا مطالبہ کیا ہے۔ کیجریوال نے ‘مفادات کے تصادم’ کے امکان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ جج کے بچوں کو مرکزی حکومت کے وکیل کے طور پر نامزد کیا گیا ہے۔ کیجریوال کا حلف نامہ بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہے۔ دہلی AAP کے صدر سوربھ بھردواج نے اسے سوشل میڈیا پر شیئر کیا ہے۔








