لکھنؤ : (ایجنسی)
آئندہ سال اتر پردیش میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے لیے سیاسی سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں۔ یوپی کے انتخابی موسم میں تمام سیاسی پارٹیاں اپنی کشتی کو پار لگانے کے لیے زور آزمائش کرتی نظر آرہی ہیں۔ ایسے میں پارٹیوں کا ایک دوسرے پر الزام اور جوابی حملوں کا بھی دور شروع ہوگیا ہے ۔ اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے ایس پی سربراہ اکھلیش یادو پر طنز کرتےہوئے کہاکہمسلم ووٹ لینا چاہتے ہیں لیکن ابا جان سے پریشان ہیں ۔
ایک انٹرویو کے دوران سی ایم یوگی سے سوال پوچھا گیا کہ آپ نے ایک بیان دیا، جس کے بعد اکھلیش یادو بڑے ناراض ہوگئے تھے۔ آپ نے اکھلیش جی کے پتیا جی کے لیے ابا جان لفظ کا استعمال کیا اور انہوں نے کہاکہ یہ صحیح نہیں ہے ۔ میں اس کو سمجھ نہیں پایا؟اس کے جواب میں سی ایم یوگی نے کہاکہ ’ ابا جان سے ان کو کیوںپریشانی ہو رہی ہے؟ آپ مسلم ووٹ لینا چاہتے ہیں لیکن ابا جان سے پریشان ہیں۔
اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے سی ایم یوگی نے کہا کہ کیا یہ ان لیڈروں کے دوہرے کردار کو ظاہر نہیں کرتا؟ انہوں نے بتایا کہ یہ مسئلہ قانون ساز کونسل میں اٹھایا گیا تھا ، پھر… احمد حسن جی قانون ساز کونسل میں اپوزیشن پارٹی کے لیڈر ہیں… میں نے ان سے پوچھا کہ کیا اباجان غیر پارلیمانی لفظ ہے؟ اگر غیر پارلیمانی لفظ ہے تو میں اسے واپس لیتا ہوں۔
بتادیں کہ حال ہی میں ایک نیوز چینل کو دئے گئے انٹرویو کے دوران سی ایم یوگی آدتیہ ناتھ نے ملائم سنگھ یادو پر تبصرہ کیا تھا۔ انہوں نے رام مندر تعمیر کے موضوع پر بات کرتے ہوئے اکھلیش یادو پر طنز کسا تھا۔ سی ایم یوگی نے کہا تھا کہ ان کے ابا جان تو کہتے تھے پرندہ بھی پر نہیں مار پائے گا، لیکن ہم ایودھیا میں رام مندر بنا رہے ہیں ۔
ان کے اس بیان پر سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے پلٹ وار کرتے ہوئے کہاتھا کہ ہمارا آپ کا جھگڑا مسائل کو لے کر ہو سکتا ہے ۔ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو اپنی زبان پر کنٹرول رکھنا چاہئے۔ ورنہ وہ بھی اپنے پیتا جی کے لیے اسی طرح کی زبان سننے کے لیے تیار رہیں۔ جیسا وہ پیتا جی کے لیے بولے ہیں۔









