دہائیوں پرانی دشمنی اور حالیہ شدید فوجی تناؤ کے بعد دنیا نے ایک ایسا منظر دیکھا ہے جس کی چند دن پہلے تک توقع نہیں کی جا رہی تھی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے سوئٹزرلینڈ کے خوبصورت پہاڑی مقام ‘برگن اسٹاک’ میں آمنے سامنے بیٹھ کر ایک تاریخی 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت (MoU) پر باقاعدہ دستخط کر دیے ہیں۔
اس معاہدے کے ساتھ ہی مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بادل چھٹ گئے ہیں اور دونوں رہنماؤں نے مصافحہ کر کے ایک نئے سفارتی دور کا آغاز کر دیا ہے۔ معاہدے کے تحت امریکہ ایران پر عائد بحری بلاکیڈ (ناکہ بندی) فوری طور پر ختم کر رہا ہے، جبکہ ایران نے اپنے جوہری پروگرام پر دوبارہ مذاکرات اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کی حامی بھر لی ہے۔
دستخط شدہ 14 نکاتی معاہدے کے اہم ترین نکات
بحری ناکہ بندی کا فوری خاتمہ: امریکی بحریہ آبنائے ہرمز اور عالمی پانیوں میں ایرانی تیل بردار جہازوں کی ناکہ بندی فوری طور پر ختم کرے گی۔
تیل کی فروخت کی مشروط اجازت: ایران کو عالمی مارکیٹ میں اپنا خام تیل اور پیٹروکیمیکل مصنوعات بیچنے کی اجازت ہوگی، جس سے حاصل ہونے والی رقم مخصوص بین الاقوامی بینکوں کے ذریعے مانیٹر کی جائے گی۔
60 دن کا ڈیڈ لائن چیلنج: یہ ایک عبوری مفاہمت (MoU) ہے۔ دونوں ممالک اگلے 60 دنوں کے اندر ایک حتمی اور مستقل ‘جامع امن معاہدے’ کے لیے باقاعدہ فریم ورک تیار کریں گے۔
علاقائی جنگ بندی: لبنان اور دیگر محاذوں پر تمام فوجی کارروائیوں اور فائرنگ کو مستقل طور پر روک دیا جائے گا، اور ایران نواز گروپوں کو پیچھے ہٹایا جائے گا۔
اکنامک ریکوری فنڈ: ایران کی تباہ حال معیشت کو سہارا دینے کے لیے 300 ارب ڈالر کا ایک خصوصی انویسٹمنٹ فنڈ قائم کیا جائے گا، جس میں ایشیا اور خلیجی ممالک سرمایہ کاری کریں گے (ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ اس میں امریکی حکومت کا کوئی پیسہ شامل نہیں ہوگا)۔








