نئی دہلی : (ایجنسی)
برسراقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے دعویٰ کیا ہے کہ 2014 میں وزیر اعظم نریندر مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے حکومت نے ہر روز دو کالج قائم کیے ہیں۔ بی جے پی نے یہ معلومات ٹویٹ کر کے دی ہے، تاہم یہ اعداد و شمارانتظامیہ کے ذریعہ شائع اعدادوشمار سے بالکل برعکس ہے۔
اعداد وشمار کے مطابق ایسا تبھی ہو سکتا ہے کہ جب ملک کی تمام ریاستی حکومتیں اورپرائیویٹ اداروں کے قائم کردہ تمام کالجز کا کریڈٹ مودی سرکار کو دیا جائے۔ بی جے پی نے منگل کو ٹویٹ کیا۔ ’’ اعلیٰ تعلیم پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے ،مودی سرکار نے 2014 سے ہر دن دو کالج قائم کئے ۔ پہلے فورنسک یونیورسٹی اورریل اینڈ ٹرانسپورٹ یونیورسٹی قائم کی۔
مرکزی وزارت تعلیم کے ایک سروے سے معلوم ہوتا ہے کہ مرکز نے 30 ستمبر، 2013 اور 30 ستمبر 2019 کے درمیان صرف 72 تعلیمی ادارے قائم کئے ہے، جس میں پانچ مرکزی یونیورسٹی اور 67 آئی این آئی شامل ہے۔
26 مئی 2014 کو وزیر اعظم نریندر مودی نے پہلی بار وزیر اعظم عہدہ کاحلف اٹھایا تھا۔ اس کے بعد سے 30 ستمبر 2019 تک 1,953دن ہوتے ہیں، ایسےمیں اس مدت کے اندر ایک دن میں دو کالجز کی شرح سے مودی سرکار کو اب تک 3,906کالج قائم کرنے چاہئے تھے ۔
بتادیں کہ اعلیٰ تعلیم پر آل انڈیا سروے آن ہایئر ایجوکیشن ( Aishe)ہر سال منعقد کیا جا تاہے ۔ یہ رپورٹ ملک میں اعلیٰ تعلیم کی موجودہ حالت پر کارکردگی کے اہم اشارے فراہم کرتی ہے ۔ یہ سروے کسی خاص سال کے لیے 30 ستمبر تک کے اعداد وشمار دیتا ہے ۔ مثالی کے طور پر سال 2013-14کے اعداد وشمار 30 ستمبر 2013 تک کی پوزیشن بیان کرتے ہیں۔
بی جے پی کے اس ٹویٹ پر یوزرس بھی اپنے رد عمل کااظہار کررہے ہیں۔ شاہ فہد نام کےایک یوزر نے لکھا :’’ پہلے یونیورسٹی تو کھول دو یہ تشہیر بعد میں کرلینا۔ڈیڑھ سال سے زیادہ ہو گیا تمام کالج اور یونیورسٹی بند پڑی ہوئی ہیں۔‘‘
ایک اور یوزر نے لکھا :’ ’ اس حساب سے وہ دن دور نہیں جب ہر طلبہ کے پاس اپنا ایک کالج ہوگا۔ واہ مودی جی واہ ۔‘‘ کنال نام کے ایک یوزر نے لکھا :’ یہ سرکار افیم پر زندہ ہے۔ کہیں بھی کچھ بھی بول دیتی ہے ۔‘









