اردو
हिन्दी
اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

’افغانستان، امریکا سے بہت دور ہے‘

5 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ متفرقات
A A
0
’افغانستان، امریکا سے بہت دور ہے‘
28
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

کابل :

جب بیس برس قبل امریکا میں نائن الیون کے دہشت گردانہ حملے رونما ہوئے تھے تب افغانستان اور اس کے لوگوں کو القاعدہ کا بھی داخلی طور پر سامنا تھا اور اس تنظیم کی موجودگی کسی المیے سے کم نہیں تھی۔

ان حملوں سے صرف دو روز قبل افغان مزاحمت کا نشان سمجھے جانے والے ناردرن آلائنس کے رہنما احمد شاہ مسعود کو القاعدہ کے عسکریت پسندوں نے ایک خودکش حملے میں ہلاک کر دیا تھا۔ مسعود کا کردار سوویت فوج کشی کے دوران بھی قابل تعریف خیال کیا جاتا تھا۔

احمد شاہ مسعود کی ہلاکت اور پھر نائن الیون

نو ستمبر سن 2001 کو احمد شاہ مسعود کو ایک حملے میں القاعدہ کے جنگجوؤں نے ہلاک کر دیا تھا اور ہھر دو ہی روز بعد یعنی گیارہ ستمبر کو امریکا کے مختلف مقامات پر کمرشل ہوائی جہازوں کے کاک پٹ کا کنٹرول حاصل کر کے دہشت گردوں نے انہیں عمارتوں سے ٹکرا دیا تھا۔ ان حملوں میں تین ہزار کے قریب انسانی جانیں ضائع ہوئی تھیں۔

جب یہ واقعات رونما ہوئے تو افغان شہریوں نے ان کا بظاہر نوٹس شدت کے ساتھ نہیں لیا تھا کیونکہ ان کے خیال میں امریکا کا ملک افغانستان سے بہت دورہے اور کسی حملے کا کوئی امکان نہیں۔

سابق حکومتی ملازم عبد الرحمٰن کا کہنا ہے کہ انہوں نے امریکا پر حملے کی خبریں گیارہ ستمبر کی شام کو سنی تھیں لیکن اس کی پرواہ نہیں کی کیونکہ امریکی ٹھکانوں پر حملے اور اس کی جوابی کارروائیوں کی خبریں آتی رہتی تھی اور اسی انداز میں افغانستان پر ممکنہ امریکی حملے کی خبر بھی سنی مگر پریشان اس لیے نہیں ہوا کہ مجھے احساس تھا کہ ان کا ملک امریکا سے بہت دور ہے۔

القاعدہ اور بیس برس قبل کے حکمران

نائن الیون کے حملوں کے وقت افغان شہریوں کو یہ تو معلوم تھا کہ ان کے ملک پر سخت گیر طالبان حکومت کر رہے ہیں لیکن وہ اس سے بے خبر تھے کہ القاعدہ بھی ان کے ملک ہی میں ڈھیرے ڈالے ہوئے تھی۔ یہی القاعدہ امریکا پر حملوں کی ماسٹر مائنڈ تھی۔

افغان شہر قندھار کے لائبریرین عبد الصمد کا کہنا تھا کہ انہوں نے اخبارات کے اسٹالوں پر لوگوں کو امریکا پر حملوں کی خبریں پڑھتے دیکھا اور کئی لوگ ان پڑھ افراد کو اونچی آواز میں پڑھ کر خبریں سنا رہے تھے۔

عبد الصمد کے مطابق نائن الیون حملوں کی تصاویرشہر کے اخبارات میں دو دن بعد چھپی تھیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں تبھی احساس ہو گیا تھا کہ یہ حملے ایک نئی ناقابل قبول صورت حال کا آغاز تھی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکا ان کے ملک پر حملے کے بہانے تلاش کر رہا تھا اور ایک بہانے کو لے کر وہ اس ملک پر قابض ہوا تھا۔

القاعدہ کے لیڈر کی حوالگی کا امریکی مطالبہ

امریکا نے طابان سے کہا کہ القاعدہ تنظیم امریکی حملوں میں ملوث ہے اور اس کے لیڈر اسامہ بن لادن کو اس کے حوالے کیا جائے مگر طالبان نے اس کو ماننے سے انکار کر دیا طالبان سن 1996 سے افغانستان پر حکومت قائم کیے ہوئے تھے۔

قندھار کے ایک تالا ساز قیام الدین کا کہنا ہے کہ امریکا نے افغانستان میں داخل ہو کر ایک نئی پریشانی اور مصیبت کھڑی کر دی تھی۔ ان کے مطابق جنگ نے طول پکڑا اور طالبان نے پھر سَر اٹھا لیا اور انسانوں کے ہلاک اور زخمی ہونے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ قیام الدین کے مطابق لوگ مہاجرت اختیار کر کے پاکستان اور ایران گئے لیکن پھر بہت سارے واپس لوٹ آئے کیونکہ انہیں وہاں اور شدید مسائل کا سامنا تھا۔

طالبان اور لوگوں کو یقین نہیں تھا کہ مصیبت آنے والی ہے

ایک اسکول ٹیچر نور اللہ کا کہنا ہے کہ طالبان نے ملک میں ٹیلی وژن کو غیر اسلامی قرار دے کر اس کے دیکھنے پر پابندی عائد کر دی تھی۔ انہوں نے نائن الیون کی خبریں اپنے گھر کے تہہ خانے میں چھپ کر ٹیلی وژن پر دیکھی تھیں۔

نور اللہ کے مطابق انہیں احساس ہو گیا تھا کہ ایک بڑی مصیبت آنے والے ہے لیکن عام لوگوں اور حکمرانوں کو یقین تھا کہ ایسا کچھ نہیں ہو گا۔ نور اللہ نے مزید کہا کہ انجام کار امریکی داخل ہو گئے اور طالبان کو اقتدار سے نکال باہر کیا گیا۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ طالبان کے زوال سے ایک احساس پیدا ہوا کہ سب لوگ کم از کم آزادی سے سانس تو لے سکیں گے۔ اسکول ٹیچر نے بتایا کہ حقیقت میں امریکا ایک غلط مقام پر پھنس کر رہ گیا اور اسے اس میں سے نکلنے میں بیس برس لگے اور طالبان پھر واپس لوٹ آئے۔ نور اللہ کے مطابق پھر سے وہی چہرے اور لوگ اپنے پرانے رویوں کے ساتھ حکومت میں ہیں۔

(بشکریہ: ڈی ڈبلیو)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

متفرقات

ہیلتھ ٹپس:بھنے ہوئے چنے کھانے کے بہت سے فائدے ، ۔نیچرل پروٹین سے لے کر فائبر کا خزانہ

11 جولائی
متفرقات

ہیلتھ ٹپس:بھنے ہوئے السی کے بیج صحت کا خزانہ،شوگر، ہائی کولیسٹرول سمیت کئی بیماریوں میں فا ئدے مند

06 جولائی
متفرقات

کارڈیک اریسٹ اور ہارٹ اٹیک میں کیا فرق ہے؟ کیا ہیں علامات و وجوہات ؟ایمرجنسی میں کیا کریں ۔

30 جون
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
Iran US Talks News

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

Kejriwal Video Order News

کیجریوال کی جج سے بحث: ہائی کورٹ کا پولیس کو سوشل میڈیا سے ویڈیو ہٹانے کا حکم

RSS Deepfake Controversy

انتخابی موسم میں آر ایس ایس فرضی لیٹر سے پریشان، بھاگوت کا ڈیپ فیک بھی وائرل

DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

Iran US Talks News

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026
Kejriwal Video Order News

کیجریوال کی جج سے بحث: ہائی کورٹ کا پولیس کو سوشل میڈیا سے ویڈیو ہٹانے کا حکم

اپریل 15, 2026
RSS Deepfake Controversy

انتخابی موسم میں آر ایس ایس فرضی لیٹر سے پریشان، بھاگوت کا ڈیپ فیک بھی وائرل

اپریل 13, 2026
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026

حالیہ خبریں

Iran US Talks News

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026
Kejriwal Video Order News

کیجریوال کی جج سے بحث: ہائی کورٹ کا پولیس کو سوشل میڈیا سے ویڈیو ہٹانے کا حکم

اپریل 15, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN