نئی دہلی :
راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے سربراہ موہن بھاگوت نے کہا کہ ویر ساورکر کے ہندوتوا نظریے نے کبھی بھی لوگوں کو ان کی تہذیب و ثقافت اور دیوتا کی پوجا کرنے کے طریقہ کار کی بنیاد پر فرق نہیں کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ساورکر کہتے تھے کہ ہم فرق کیوں کرتے ہیں؟ ہم ایک ہی مادر وطن کے بیٹے ہیں، ہم آپس میں سب بھائی بھائی ہیں۔ عبادت کے مختلف طریقے ہمارے ملک کی روایت رہے ہیں۔ ہم مل کر ملک کے لیے لڑ رہے ہیں‘‘۔
موہن بھاگوت نے ان خیالات کا اظہار نئی کتاب ’ویر ساورکر: دی مین ہاوڈ کوڈ روڈ ٹو پارٹیشن‘ کے رسم اجرا کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا ہے۔ آر ایس ایس کے سربراہ نے کہا کہ ساورکر نے اردو میں بہت سی غزلیں بھی لکھی ہیں۔ اس طرح وہ مسلمانوں کے دشمن نہیں تھے۔
انھوں نے کہا کہ کئی لوگوں نے ہندوستانی سماج میں ہندوتوا اور اتحاد کے بارے میں بات کی، یہ صرف اتنا تھا کہ ساورکر نے اس کے بارے میں ہمیشہ اور بھرپور انداز میں بات کی اور اب اتنے سال کے بعد یہ محسوس کیا جا رہا ہے کہ اگر ہر کوئی اس طرح بات کرتا تو ملک کی کوئی تقسیم نہ ہوتی۔ تقسیم کے بعد پاکستان ہجرت کرنے والے مسلمانوں کا اُس ملک میں کوئی وقار نہیں ہے، کیونکہ وہ ہندوستان سے تعلق رکھتے تھے۔
بھاگوت نے کہا کہ ہمارے ایک ہی آباؤ اجداد ہیں، صرف ہماری عبادت کا طریقہ کار مختلف ہے اور ہم سب کو ہماری سناتن دھرم کی لبرل ثقافت پر فخر ہے۔ یہ ورثہ ہمیں ترقی کی طرف لے جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ہم سب یہاں مل کر رہ رہے ہیں‘‘۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ چاہے یہ ساورکر کا ہندوتوا ہو یا ویویکانند کا ہندوتوا ، سب ایک جیسے ہیں کیونکہ وہ سب ایک ہی ثقافتی قوم پرستی کے بارے میں بات کرتے تھے، جہاں لوگوں کو ان کے نظریے کی بنیاد پر فرق نہیں کیا جاتا ہے۔








