سوڈان : (ایجنسی)
افریقی ملک سوڈان میں فوجی بغاوت کی اطلاعات ہیں جبکہ ملک کے وزیر اعظم سمیت عبوری حکومت میں شامل متعدد رہنماؤں کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق فوج نے پیر کی صبح سے کچھ وقت قبل دیگر رہنماؤں کے علاوہ وزیر اعظم عبداللہ ہمدوک سمیت چار وزرا کو بھی حراست میں لے لیا۔ فوج نے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے تاہم جمہوریت کے حامی گروہوں نے سڑکوں پر احتجاج کا اعلان کیا ہے۔
سوڈان کی وزارتِ اطلاعات کے فیس بک صفحے پر ایک پیغام میں ملک کے وزیراعظم عبداللہ ہمدوک نے بھی عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ پرامن مظاہرے کریں اور ’انقلاب کا تحفظ‘ کریں۔ وزیراعظم نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک کی افواج نے انھیں ان کے گھر میں قید کر دیا ہے اور ان پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ فوجی بغاوت کے حق میں بیان دیں۔
وزارتِ اطلاعات کی جانب سے ایک اور پیغام میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم کی جانب سے ایسا بیان جاری کرنے سے انکار کے بعد انھیں نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ وزارتِ اطلاعات کے مطابق فوج کے اہلکاروں نے سرکاری ٹی وی اور ریڈیو سٹیشن کی عمارتوں کا کنٹرول بھی سنبھال لیا ہے اور وہاں سے متعدد ملازمین کو حراست میں لیا گیا ہے۔
سوڈان کے دارالحکومت خرطوم میں عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ کی سروسز معطل کر دی گئی ہیں تاہم سوشل میڈیا پر ایسی تصاویر سامنے آئی ہیں جن میں مشتعل لوگ سڑکوں پر ٹائر جلا رہے ہیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کو ایک عینی شاہد نے کہا ہے کہ عام لوگوں کی آمدورفت کو محدود رکھنے کے لیے شہر میں فوج اور نیم فوجی دستے تعینات کر دیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ خرطوم ایئرپورٹ کو بند کر دیا گیا ہے جبکہ پروازوں کو معطل کر دیا گیا ہے۔
سوڈان کے جمہور نواز گروپ نے اپنے حمایتیوں سے کہا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی فوجی بغاوت کے خلاف مزاحمت کریں۔ سوڈان میں فوجی اور سیاسی رہنماؤں کے درمیان طویل عرصے سے مخاصمت چلی آ رہی تھی۔
سوڈانی فوج سنہ 2019 میں صدر عمرالبشیر کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد سے سیاسی رہنماؤں کے ساتھ عبوری حکومت میں شریک اقتدار ہے۔ فوج نے کئی گروپس کے سیاسی اتحاد فورسز فار فریڈم اینڈ چینج (ایف ایف سی) کے ساتھ اقتدار میں شریک ہونے کے لیے ایک ڈیل کی، جس کے بعد ایک آزاد کونسل کا قیام عمل میں لیا گیا۔
اس معاہدے کے تحت ملک میں ایک سال بعد انتخابات کو یقنی بنایا جانا تھا اور اقتدار سیاسی جماعتوں کو منتقل ہونا تھا مگر اس معاہدے پر عمل نہیں ہو سکا کیونکہ ایک طرف حریف سیاسی گروہ تھے اور دوسری طرف خود فوج کے اندر تقسیم موجود تھی۔ ستمبر میں سابق صدر کے پیروکاروں کی طرف سے بغاوت کی کوشش ناکام بنانے کے بعد کشیدگی مزید بڑھ گئی۔ اس مہینے سوڈان می جمہوریت کی بحالی کے مخالفین خرطوم کی سڑکوں پر نکل آئے اور فوج سے ملک کا اقتدار سنبھالنے کا مطالبہ کر دیا۔









