آگرہ : (ایجنسی)
پاکستان کی جیت کا جشن منانے کے الزام میں کشمیری طلباء جیل کی الگ بیرکوں میں بند ہیں۔جیل سپرنٹنڈنٹ پی ڈی سلونیا نے بتایا کہ ان طلباء کو ابھی نئے قیدی والے بیرک میں رکھا گیا ہے، آر ٹی پی سی آر ٹیسٹ کرایا گیا ہے، تاہم انہیں جیل لانے کے بعد اینٹیجن ٹیسٹ نگیٹیو آیا ہے۔ انہوں نے بتایا تھا کہ ان طلباء کو الگ بیرک میں رکھا جائے گا۔
کل رات تقریباً 8 بجے کے بعد ایک طالب علم عنایت کے چچا ریاض آگرہ کے بیچ پوری ضلع کے کالج پہنچے، حالانکہ کالج کا کوئی بھی ذمہ دار افسر نہ ملنے کی وجہ سے ان کی ملاقات نہیں ہوپائی تھی۔ وہیں دیگر دو طالب علم ارشد اور شوکت کے اہل خانوں کے آج پہنچنے کا امکا ن ہے ۔ بتا دیں کہ آگرہ کے مقامی وکلاء نے بھی ان کا مقدمہ لڑنے سے انکار کر دیا ہے۔
مقامی وکلاء یونین آگرہ نے معاملہ لینے سے انکار کردیا ہے اور کہا ہے کہ وہ بغاوت کے الزام میں درج تین کشمیری طلباء کے معاملے کی پیروی نہیں کریں گے ۔ اب ان طلبہ کا دفاع کے لیے کسی اور جگہ سے وکیل کا انتظام کیا گیا ہے۔ایڈووکیٹ مدھوون چترویدی ان طلبہ کا مقدمہ لڑیں گے۔
جیل میں طالب علموں سے ملنے کے لیےاہل خانہ کو متعلقہ ضلع کے ڈی ایم سے ویریفائڈ رپورٹ کی ضرورت ہوگی ۔ جس کے بعد ہی ملاقات کرائی جاسکتی ہے اور ایسے میں اگر اہل خانہ بغیر ویریفائڈ کرائے آگرہ آتے ہیں تو ان کے لیے طلبا سے ملاقات کرناممکن ہوگا۔
دراصل27 اکتوبر تینوں ملزم طالب علموں کو پولس نے گرفتار کیا تھا۔ ان پر 24 اکتوبر کو ٹی- ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے میچ میں بھارت کے خلاف پاکستان کی جیت کا جشن منانے کا الزام تھا۔








