لکھنؤ : (ایجنسی)
اترپردیش میں پرائمری اسکول کے ٹیچرز اور دیگر سرکاری نوکریاں حاصل کرنے کے لیے جعلی ڈگری گھوٹالہ کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ ایس آئی ٹی کی طرف سے شروع کی گئی گھوٹالے کی جانچ میں کل 19 لوگوں کے نام سامنے آئے ہیں۔ جس میں دو یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز بھی پھنس گئے ہیں۔ ان میں سے ایک مرکزی یونیورسٹی کے وائس چانسلر ہیں۔
وارانسی میں سمپورنانند یونیورسٹی سے متعلق بے ضابطگیوں کے معاملے کی جانچ کرنے والی ایس آئی ٹی کی فہرست میں کل 19 لوگوں کے نام شامل ہیں۔ ان میں سینٹرل یونیورسٹی وردھا کے وی سی رجنیش کمار شکلا اور جارکھنڈ کے کولہن یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر گنگادھر پانڈا کے نام شامل ہیں۔ یہ دونوں وارانسی میں واقع سمپورنانند یونیورسٹی کے پرانے افسر رہ چکے ہیں۔
پروفیسر شکلا انڈین کونسل آف سوشل سائنس ریسرچ (ICSSR) کی ایک کمیٹی کے رکن بھی ہیں۔ پروفیسر شکلا اس سے قبل انڈین کونسل آف فلسفیکل ریسرچ اور انڈین کونسل آف ہسٹوریکل ریسرچ (ICHR) کے ممبر سکریٹری کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔
سمپورنانند سنسکرت یونیورسٹی اترپردیش حکومت کے تحت آتی ہے۔ ایس آئی ٹی یونیورسٹی میں 2004 اور 2014 کے درمیان ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں کی جانچ کر رہی ہے۔ 18 نومبر کو ایس آئی ٹی نے اپنی 99 صفحات پر مشتمل رپورٹ جاری کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ 2004 سے 2014 کے درمیان یونیورسٹی کے رجسٹرار، ایگزام کنٹرولر اور سسٹم منیجر نے اپنی ذمہ داریوں میں کوتاہی یا بے ضابطگیکی تھی۔
اس سال مارچ میں اتر پردیش کے ہوم ڈپارٹمنٹ نے یونیورسٹی کو ایک خط لکھا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ اتر پردیش گورنمنٹ ایمپلائز (ڈسپلن اینڈ اپیل) رولز، 1999 کے تحت رپورٹ میں نام آنے والوں کے خلاف کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ داخلہ نے مزید کارروائی کے لیے نامزد کیے گئے افراد کی موجودہ ملازمت کی تفصیلات بھی طلب کی تھیں اور یونیورسٹی میں کام کرنے والے 10 دیگر افراد کے خلاف کارروائی کرنے کا بھی کہا تھا۔ تاہم سمپورنانند سنسکرت یونیورسٹی انتظامیہ نے اس پر تبصرہ کرنے سے انکار کردیا۔
اس سال 2 ستمبر کو ایس آئی ٹی نے مرکزی حکومت کے زیر انتظام مہاتما گاندھی انٹرنیشنل ہندی یونیورسٹی وردھا کے وائس چانسلر رجنیش شکلا کو اپنا بیان ریکارڈ کرنے کے لیے نوٹس جاری کیا تھا۔ ایس آئی ٹی کی طرف سے نوٹس جاری کرنے کے بارے میں شکلا نے انڈین ایکسپریس کو بتایا کہ میں نے ایس آئی ٹی کے حکم کو چیلنج کیا ہے۔ 2020 کی رپورٹ کو حتمی نہیں کہا جا سکتا۔ درحقیقت، رجسٹرار کے طور پرمیں اس پر کارروائی کرنے والے پہلے لوگوں میں سے ایک تھا کیونکہ یونیورسٹی کو اس وقت کی ریاستی حکومت سے دھوکہ دہی کی شکایات ملتی تھیں۔
رجنیش شکلا نے یہ بھی کہا کہ میں نے گزشتہ ماہ اپنا بیان حلف نامہ کی شکل میں ایس آئی ٹی کے سامنے پیش کیا تھا۔ میری ایف آئی آر کی بنیاد پر یونیورسٹی کے دو عہدیداروں کو جیل بھیج دیا گیا۔ ایس آئی ٹی کو اپنی رپورٹ تیار کرنے سے پہلے میرا بیان ریکارڈ کرنا چاہیے تھا۔ ساتھ ہی پروفیسر پانڈا نے کہا کہ جب رپورٹ تیار کی جا رہی تھی، ایس آئی ٹی نے میرا بیان ریکارڈ کر لیا تھا۔ میں نے واضح کر دیا تھا کہ دستاویزات میرے پاس صرف رسمی طور پر آئی ہیں۔ کسی بھی معاملے میں مجھے یوپی حکومت یا یونیورسٹی سے رپورٹ کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ملی۔ میں بطور وی سی اپنی ڈیوٹی پوری لگن سے سرانجام دے رہا ہوں۔
رجنیش شکلا 23 مارچ سے 18 دسمبر 2011 تک سمپورنانند سنسکرت یونیورسٹی کے قائم مقام رجسٹرار تھے جبکہ پروفیسر پانڈا 11 فروری 2009 سے 6 اگست 2010 تک اس عہدے پر فائز رہے۔
اس معاملے میں، ایس آئی ٹی نے یوپی کے 69 اضلاع میں کام کرنے والے 5,797 اساتذہ کی ڈگریوں کی جانچ کی اور سمپورنانند سنسکرت نیورسٹی کی طرف سے جاری کردہ 1,086 ڈگریوں کو جعلی پایا۔ ایس آئی ٹی نے تقریباً 207 ڈگری پر دھوکہ دہی کا شبہ ظاہر کیا ہے۔
معاملے کی جانچ کر رہی ایس آئی ٹی نے کہا کہ جن لوگوں نے سمپورنانند سنسکرت یونیورسٹی سے فرضی ڈگریاں حاصل کی تھیں۔ انہیں ثانوی تعلیم، اعلیٰ ثانوی تعلیم اور دیگر سرکاری محکموں میں بھی ملازمتیں ملی ہوں گی اور اس کے لیے متعلقہ محکموں کی طرف سے تفصیلی چھان بین کی ضرورت ہے۔ محکمہ امتحانات کے ریکارڈ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی ہے۔ مزید ریکارڈ بھی بڑے پیمانے پر تباہ کیے گئے ہیں جو ایک سنگین غیر آئینی جرم ہے۔ تاہم ایس آئی ٹی افسر وجے کمار سنگھ نے رجنیش شکلا کے بیان پر تبصرہ کرنے سے انکار کردیا۔








