نئی دہلی : (ایجنسی)
عام آدمی پارٹی سے معطل کونسلر طاہر حسین نے فروری 2020 میں دہلی میں ہوئے فسادات کے سلسلے میں عدالت کے سامنے اپنا موقف رکھا ہے ۔ طاہر کے وکیل نے کہاکہ عدالت کو گمرہ کیا جا رہاہے اوران کے مؤکل دہلی فسادات کے شکار بنے ہیں۔ اس سے پہلے بھی طاہر حسین نے کہا تھا کہ وہ بے قصور ہیں ۔ طاہرکی جانب سے پیش ہوئے ایڈووکیٹ رضوان اور استغاثہ فریق کے وکیل نے ایڈیشنل سیشن جج وریندر بھٹ کے سامنے اپنے دلائل کو پیش رکھا ۔
اس معاملے میں اجے کمار جھا نامی شخص نے پولیس میں شکایت درج کرائی تھی کہ وہ فسادیوں کی بھیڑ کے ذریعہ طاہر حسین کی چھت سے پھینکے گئے پتھروں، پٹرول بموں کی وجہ سے وہ زخمی ہوگیا تھا ۔ یہ واقعہ 25 فروری کا ہے ۔ استغاثہ فریق نے عدالت سے کہاکہ طاہر اس کی مخالفت نہیں کررہا تھا بلکہ فسادیوں کی مدد کررہا تھا ۔
جبکہ رضوان نے کہا کہ فسادی ان کے مؤکل کےگھر پہنچ گئے تھے اورطاہر نے فسادیوں سے پٹرول بم پھینکنے کے لیے نہیں کہا تھا۔ اگرآپ استغاثہ کی ویڈیو دیکھیں تو طاہر گھر کے پاس ایک پارکنگ میں لگی آگ کو بجھا رہا تھا۔ اس پر استغاثہ نے کہا کہ ویڈیو بنانے والا شخص علاقے میں آتشزدگی کی بات کر رہا ہے اور یہ بھی کہہ رہا ہے کہ اس کے پیچھے طاہر حسین کا ہاتھ ہے۔
رضوان نے کہا کہ جس شخص نے ویڈیو بنائی جسے استغاثہ نے رکھا اور کہا کہ طاہر اس میں ہے، پولیس نے اسے اس کیس میں گواہ تک نہیں بنایا۔ انہوں نے کئی ویڈیوز عدالت کے سامنے رکھ کر کہا کہ طاہر علاقے کے اے سی پی سے بات کر رہا ہے اور اس دوران پولیس کی بھاری نفری ان کے گھر کے قریب موجود تھی۔
رضوان نے کہا، ’میرا مؤکل اس معاملے میں خود ہی شکار ہے اور پردیپ نامی شخص، جس کی پارکنگ میں آگ لگی تھی، خود پتھراؤ میں ملوث تھا۔ پردیپ اس معاملے میں گواہ ہے لیکن اس پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ رضوان نے عدالت کو بتایا کہ پولیس نے طاہر حسین کو گھر سے نکال کر گھر پر قبضہ کر لیا ہے۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ طاہر کا جے این یو لیڈر عمر خالد سے کبھی کوئی رابطہ نہیں رہا۔
انہوں نے عدالت کو بتایا کہ فسادات کی سازش جامعہ سے شروع ہوئی اور چاند باغ تک چلی۔ دریں اثنا، پولیس نے بہت سی اہم باتوں پر بات نہیں کی ہے جیسے کچھ لیڈروں کی تقاریر وغیرہ۔








